اقوام متحدہ کا ادلب بارے ایردوان پوٹن معاہدہ پر اظہار تشکر، جلد عملدرآمد پر زور

0 1,029

شام میں اقوام متحدہ کے نمائندے نے روس اور ترکی کے مابین ہونے والے معاہدے کی تعریف کی ہے، اس سے قبل وہ ادلب میں 21 ویں صدی کے سب سے بڑے انسانی بحران کے خطرے کی پیشین گوئی کر چکے تھے۔

سیکیورٹی کونسل میں اقوام متحدہ کے شامی مشن کے سربراہ اسٹیفن دی مستورا نے کہا، "ہم امید کرتے ہیں کہ اس معاہدے تیزی کے ساتھ عملدرآمد کیا جائے گا”۔

دی مستورا نے کہا، "میں صدور (ولادیمر) پوٹن اور (رجب طیب) ایردوان کے اس ذاتی معاہدے پر شکریہ ادا کرتا ہوں”۔

سوموار کے روز ترک اور روسی سربراہان مملکت شامی صوبے ادلب میں ایک عسکریت سے خالی علاقہ قائم کرنے پر راضی ہوئے تھے۔ ادلب شامی اپوزیشن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور شامی رجیم بشار الاسد یہاں سے اپوزیشن کا خاتمہ کرنے کے لیے بڑے آپریشن کا فیصلہ کر چکے تھے۔ گذشتہ روز ترک صدر ہنگامی طور پر روس پہنچے اور سوچی میں دو طرفہ مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پایا۔

انقرہ اور ماسکو نے اس موقع پر ادلب کے بفرن زون کے استحکام کے لیے ایک میمورنڈم پر بھی دستخط کئے جس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقہ میں کسی بھی قسم کی جارحیت پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔

معاہدہ کی رو سے ادلب میں اپوزیشن کے گروپ جہاں قیام پذیر ہیں وہیں رہیں گے جب کسی بھی قسم بھی عسکری واردات اور جھگڑے کو روکنے کے لیے روسی اور ترک فوج علاقے میں پیٹرول کرے گی۔

دی مستورا نے شامی بحران کی تمام پارٹیوں پر زور دیا کہ وہ ملٹری اقدامات سے گریز کریں تاکہ یہ معاہدہ ضائع نہ ہو جائے۔

سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے سربراہ مارک لوکاک نے کہا کہ آیا سوچی میں ہونے والا معاہدہ ادلب اور اس کے شہریوں کے لیے پائیدار امن کا ضامن بنے گا؟۔

تبصرے
Loading...