بیت المقدس بارے اقوام متحدہ کا ووٹ سچ اور انصاف کی فتح ہے، حماس

0 834

جمعرات کو امریکی فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے واضح اکثریت سے قرارداد پاس کرتے ہوئے امریکا سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارلخلافہ تسلیم کئے جانے کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ کل 193ممبران میں سے 128ممبران نے قرارداد کے حق میں اور 9ممبر ممالک نے اسکے خلاف ووٹ دیا جبکہ 35ممالک نے ووٹ دینے سے احتراز کیا۔

ہانیہ کے مطابق جنرل اسمبلی کا قرارداد پاس کرنا لوگوں کی اجتماعی مرضی و منشاء ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی سیاسی مداخلت اور برتری کو مسترد کرتا ہے۔

جمعرات کے روز جاری شدہ اعلامیہ کے مطابق اسماعیل ہانیہ نے امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے بین ا لاقوامی منشاء کا لحاظ کرتے ہوئے بیت ا لمقدس کو اسرائیلی دارلخلافہ تسلیم کرنے کے فیصلہ کو واپس لینے کا کہا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ ہنڈراس، ٹوگو، پالاؤ، جزائر مارشل ، مائیکرونیشیا ، ناؤرو اور گوئٹے مالا نے بھی اقوام متحدہ میں پیش کی جانیوالی قرارداد کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

جرمنی، فرانس، نیدرلینڈ، بیلجیئم ، پرتگال، سوئیٹزرلینڈ، نارروے، سپین،یونان سمیت مکمل دوتہائی اکثریت نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے اسکے حق میں ووٹ دیا تھا۔
6دسمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا جسکے بعد علاقائی اور بین ا لاقوامی سطح پر اسکی مذمت شروع ہو گئی تھی۔

رپورٹ: خضر منظور

تبصرے
Loading...