روس یوکرائن بحران میں ترکی کا موقف کیا ہے؟

0 1,214

جنگ شروع ہو چکی ہے اور اس کا واحد مقصد یہ نہیں کہ روس، اب نیٹو سے کوئی گارنٹی حاصل کر لے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ یوکرائن کا مغرب پر اعتماد ختم ہوا جس نے اسے تنازعات میں گھسیٹا اور پھر اسے اکیلا چھوڑ دیا۔ یہ اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔ روس کو کسی حد تک روکنے اور ثالثی کے احیاء کی واحد امید اب خطے میں ترکی ہی ہے۔ اس کے لیے چاہیے کہ خطے میں ہر ایک ترکی کی تعمیری، اصولی اور پرامن پوزیشن کا تسلیم کرے۔


روس اور مغرب کے درمیان یوکرائن پر کئی ہفتے چلنے والے سنسنی خیز راؤنڈ کے بعد بالآخر گذشتہ دن شام روسی صدر ولادی دیمر وپوتن کی تاریخی تقریر کے بعد روس ایک ناقابل پلٹ اختتام کی طرف چل دیا ہے۔ جنگ اب شروع ہو چکی ہے۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کی طرف سے روزانہ دئیے جانے والے جنگی بیانات اور ہر منٹ میں آنے والی انٹیلی جنس رپورٹس نے آخر کار بحران کو بڑھانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

روس کی دوبارہ بیدار ہونے والی قوم پرستانہ توسیع پسندی پر کوئی موثر ردعمل دینے اور اپنے اتحاد کی توسیع کا جواز پیش کرنے اور تسلی بخش جواب تلاش کرنے میں نیٹو کی نااہلی اور بے اثری نے دنیا کو ایک نئی جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

روس، امریکہ اور نیٹو سے مانگی گئی ضمانتیں حاصل کرنے میں ناکام رہا اور جنگ کی بیان بازی دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے، روس نے بدھ کی رات یوکرائن کے شہروں کو فضائی بمباری سے نشانہ بنایا شروع کردیا اور پھر محدود پیمانے پر اپنی فوجیں بھی داخل کر دیں۔

اس ہنگامے نے ایک بار پھر بحران کے آغاز سے ہی نیٹو کے رکن ترکی کی جانب سے نرمی کے ساتھ معاملات چلانے، بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے تناؤ کو حل کرنے پر اصرار اور ترک ثالثی کی پیشکش کی اہمیت کو واضع کر دیا ہے۔

جب سے بحران بڑھنا شروع ہوا ہے نیٹو ایک واحد، یکساں موقف پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ نتیجتاً روس کو معقول ضمانت فراہم کرنا بھی ممکن نہ رہا۔ پوری دنیا نے دیکھا کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے یورپی یونین اور شاید نیٹو کی جانب سے پیوٹن کا دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن ان کے ساتھ یورپ کی جانب سے انتہائی گھٹیا سلوک کیا گیا۔

مزید برآن، جرمن چانسلر اولاف شولز کے اقدامات بھی بے سود رہے کیونکہ روس نے اپنے اوپر عائد کی گئی پابندیوں کو جھنجھوڑ کر دیکھا خاص کر جن میں "نورڈ اسٹیم 2 ” منصوبہ بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ، پوتن نے بھی، جنہوں نے پیر کی شام اپنی تقریر میں امریکہ اور نیٹو کے ساتھ اعتماد کے بحران کا خاکہ پیش کیا، بائیڈن کو اس کے بعد بھی بلمشافہ ملاقات کی دی گئی پیشکش پر غور نہیں کیا۔

اگرچہ روس مغربی اتحاد کے خلاف واحد غالب پارٹی ہے وہ پیچھے ہٹنے سے انکاری ہے۔

تاہم، امریکہ، فرانس، جرمنی اور بیلجیم جیسے ممالک، جنہوں نے تقریباً گھنٹے کے حساب سے حملے کے اعلانات کیے، تاہم ترکی کو، جو کہ نیٹو کے رکن بھی ہیں، کو حقیقت پسندانہ ثالثی میں اپنا کردار آزمانے کا موقع کیوں نہیں دیا؟۔ یہ بات قابل غور ہے کہ روس اور یوکرائن نے جنگی بیانات میں اضافے کے بعد لے کر جنگ سے قبل تک، ترکی کی ثالثی کی پیشکش کو مثبت طور پر قبول کیا۔

لہٰذا، بدھ کو افریقہ کا اپنا دورہ مختصر کر کے واپسی پر، صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ نیٹو کو اپنی پوزیشن کا تعین کرنے اور اپنی منصوبہ بندی کو واضح طور پر بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ ایردوان کا یہ تبصرہ کہ "ہر کوئی صرف بات کر رہا ہے لیکن کوئی کام نہیں کر رہا ہے” بھی اس جمود کی وضاحت کرتا ہے، جس نے جنگ یورپ کے دروازے پر لا کھڑی کی ہے۔

دوسری طرف، ترکی، بطور نیٹو ممبر اور یوکرائن اور روس کے ساتھ انتہائی مضبوط تعلقات رکھنے والے واحد ملک کے طور پر، ضرورت پڑنے پر اپنی ثالثی کی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے بہتر حل تلاش کر سکتا تھا۔

درحقیقت نیٹو اور امریکہ نے ان مواقع کو گنوا دیا ہے۔ اب سب کی نظریں اس پر ہوں گی کہ ترکی اب کیا پوزیشن لیتا ہے۔ اس معاملے پر ترکی کا موقف صدر ایردوان کے اس بیان کی عکاسی کرتا رہے گا کہ انقرہ کے کیف اور ماسکو دونوں کے ساتھ انتہائی مضبوط تعلقات ہیں۔ بدھ کے روز صدر پوتن کے ساتھ فون پر بات کرنے سے عین قبل، صدر ایردوان نے ترکی کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ روس یا یوکرائن کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترک نہیں کر سکتا پھر انہوں نے روس کے ساتھ اس معاملے پر مغربی سفارتی کوششوں کو کم رکھنے رکھنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

بدھ کو سینیگال سے واپسی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدرایردوان نے کہا کہ ترکی روس اور یوکرائن دونوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے وہ کسی سے اپنے تعلقات ختم کرنے یا روس پر پابندیاں نہیں لگائے گا۔

انہوں نے ترکی کا موقف واضع کرتے ہوئے کہا۔”روس کے ساتھ ہمارے سیاسی، فوجی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ یوکرائن کے ساتھ بھی۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو ہم اسے ترک نہیں کر سکتے کیونکہ اس سلسلے میں ہمارے ملک کے اعلیٰ مفادات ہیں۔”

روسی صدر کے ساتھ فون کال کے دوران صدر ایردوان نے پوتن کو بتایا کہ ترکی یوکرائن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاملے کو مزید پیچیدہ سطح پر لے جانے اور فوجی محاذ آرائی سے کسی بھی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکی یوکرائن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو تسلیم نہیں کرتا، اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک اصولی نقطہ نظر ہے اور منسک معاہدوں کی بنیاد پر کسی نتیجے پر پہنچنا ضروری ہے۔

یہ سارا منظرنامہ ایک بار پھر واضع کرتا ہے کہ کس طرح ترکی کی ثالثی کی اہم پیشکش بحران کو حل کرنے کا ایک لچکدار اور موثر موقع فراہم کرتی ہے۔

تاہم، یہ حقیقت کہ مغربی اتحاد، خاص طور پر بائیڈن انتظامیہ نے ترکی کی ثالثی کو مناسب اہمیت نہیں دی، اس بات کا امکان پیدا کرتا ہے کہ، شاید، وہ یہ مسئلہ حل ہوتا دیکھنا ہی نہیں چاہتے ہیں، شاید وہ چاہتے تھے کہ یوکرائن میں جنگ بھی چھڑ جائے اور انہیں روس کے ساتھ اپنی دشمنی نبھانے کا موقع میسر آجائے۔ لیکن اس دشمنی میں بھی وہ پابندیاں عائد کرنا ہی اپنا سب سے بڑا حملہ تصور کرتے ہیں۔ تنازع کے دونوں فریقوں کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات کی وجہ سے، ترکی کے پاس میکرون اور شولز کے ناکام روسی دوروں کے مقابلے میں کامیابی کے ساتھ سفارت کاری کرنے کا زیادہ امکان موجود ہیں اور تھے۔

جنگ شروع ہو چکی ہے اور اس کا واحد مقصد یہ نہیں کہ روس، اب نیٹو سے کوئی گارنٹی حاصل کر لے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ یوکرائن کا مغرب پر اعتماد ختم ہوا جس نے اسے تنازعات میں گھسیٹا اور پھر اسے اکیلا چھوڑ دیا۔ یہ اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔ روس کو کسی حد تک روکنے اور ثالثی کے احیاء کی واحد امید اب خطے میں ترکی ہی ہے۔ اس کے لیے چاہیے کہ خطے میں ہر ایک ترکی کی تعمیری، اصولی اور پرامن پوزیشن کا تسلیم کرے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: