بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد؛ امریکا نے ویٹو کردی

0 4,433

US vetoes resolution Jerusalem

مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے متعلق امریکی فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں مصر کی جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی۔ سیکورٹی کونسل کے 14 اراکین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تاہم امریکا نے ’’حق استرداد‘‘ استعمال کرتے ہوئے اس قرارداد کو ویٹو کردیا۔

مذکورہ قرارداد میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت ماننے اور اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کے اعلان کی مذمت کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلے نے قرارداد میں کیے گئے مطالبے کو رد کر دیا۔ سلامتی کونسل میں امریکا کے اہم اتحادی ممالک برطانیہ، فرانس، جاپان، اٹلی اور یوکرین نے بھی اس قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر 2017 کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی اور امریکا سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا کو کسی بھی فیصلے کے خلاف ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔

تبصرے
Loading...