غوطہ میں عالمی سطح پر احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی بیگ کا استعمال

0 1,130

دمشق کے کی سرحد کے پار موجود محصور شدہ شہر غوطہ گذشتہ کئی دنوں سے بشار الاسد کے ظلم و بربریت کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ وہاں شامیوں نے عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے سینکڑوں کی تعداد میں شہید ہونے والے بچوں کی میتوں کے ساتھ اقوام متحدہ کے امدادی بیگ کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

Graphic Image – Dead bodies of childern killed by Assad refime wrapped in UN aid bags in Ghouta

شامی رضا کاروں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر دو بچوں کی لاشیں دکھاتی ایک وڈیو جاری کی ہے جن کی عمریں دو سال ہوں گی، انہیں اقوام متحدہ کے مہاجر ایجنسی کے امداد بیگ میں لپیٹا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی غوطہ تک امداد پہنچانے میں ناکام رہی ہے کیونکہ اسد رجیم کی طرف سے اس کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

سماجی رابطوں کی ویب گاہوں پر بہت سے شامیوں نے ان وڈیوز اور تصاویر کو احتجاج کے لیے استعمال کیا اور عالمی برادری کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا جو غوطہ کی 4 لاکھ آبادی کو بے یار و مددگار چھوڑ چکی ہے۔ غوطہ 2013ء سے بشار الاسد رجیم کے محاصرے کا شکار ہے اور  خوراک اور ادویات کی شدید کمی کا سامنا کر رہا ہے۔



اے ایف پی کے مطابق غوطہ کے اندر نقل مکانی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ لوگ بیت السواء سے شہر کے شمال مغربی حصے کی طرف جا رہے ہیں۔ عینی شاہدین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ 2000 سے زائد افراد اس نقل مکانی کا حصہ ہیں جو غوطہ پر ہونے والی مسلسل بمباری سے بھاگ رہے ہیں۔

35 سالہ ابو خیل بھی اس نقل مکانی کا حصہ ہیں، انہوں نے ایک کم عمر بچی کو اٹھایا ہوا ہے جس کے گال پر گہرا زخم ہے، وہ کہتے ہیں، "ہر شخص سڑکوں پر ہے، ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے”۔

اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز اسد رجیم کی بمباری بمباری سے 18 مزید شہری اور 3 بچے شہید ہو گئے۔

 

تبصرے
Loading...