جامع مسجد آیا صوفیا میں 86 سال بعد پڑھا گیا پہلا خطبہ جمعہ (اردومتن)

0 4,649

جامع مسجد آیا صوفیا میں 86 سال بعد، صدارت امور دیانت (وزارت مذہبی امور) کے سربراہ ڈاکٹر علی ایرباش نے پہلا خطبہ دیا اور کہا کہ "ہماری ملت کے دل پر لگے گہرے گھاؤ اور حسرت ختم ہو رہی ہے۔ قادر مطلق رب العالمین کا بہت بہت شکر ہو”۔

ڈاکٹر علی ایرباش تین چاند والی عثمانی تلوار ہاتھ میں پکڑ کر منبر پر چڑھے اور "آیا صوفیا: فاتح کی نشانی، فاتح کی امانت” کے عنوان سے خطبہ جمعہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کے لطف و کرم اور عنایت سے اس مبارک جمعہ کی تسکین اور برکات تمام مسلمانوں کو ملیں۔ آج ہم اس مبارک دن اور مبارک جگہ پر صف اول کے شاہدین میں سے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "آیا صوفیا مسجد ہمیں حج کے مبارک مہینے ذوالحج کے تیسرے دن ملی اور آج ہم ذوالحج کے مہینے میں دوبارہ نماز باجماعت پڑھ رہے ہیں۔ ہماری ملت کے دل پر لگے گہرے گھاؤ اور حسرت ختم ہو رہی ہے۔ قادر مطلق رب العالمین کا بہت بہت شکر ہو”۔

علی ایرباش نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ "آج سے 70 سال قبل، جب آیا صوفیا کے سامنے موجود سلطان احمد مسجد کے میناروں کی 16 بالکونیوں اور ان میں اذان دینے والے 16 موذّنوں کی اللہ اکبر کی صدائیں فضاء میں گونجنا بند ہو گئیں اور 18 سال رکنے کے بعد اپنے مینار کی اذانوں کو واپس پا لینے والے ایک دن آیا آج بھی اسی جیسا ایک دن ہے۔ آج، مسلمانوں کے لیے خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ قیام میں کھڑنے ہونے، خشوع کے ساتھ رکوع کرنے اور اور شکر کے ساتھ سجدے کرنے کا دن ہے۔ آج، فخر اور تواضع کا دن ہے۔ ہمیں ایسا پُر افتخار دن لوٹانے والے، ہماری سرزمین پر سب سے زیادہ مقدس مرتبہ رکھنے والی جگہوں، مسجدوں میں ہمیں ملانے والے اور بڑے معبد آیا صوفیا میں اپنے حضور پیش ہونے کا شرف دینے والے جنابِ حق کا بے حد و حساب حمد و شکر ادا کرتے ہیں۔ ‘قسطنطنیہ ایک دن ضرور فتح ہو گا، اسے فتح کرنے والا کمانڈر کیا خوب کمانڈر اور وہ لشکر کیا خوب لشکر ہو گا’، کہہ کر فتح کی بشارت دینے والے حبیب کبریا، محمد مصطفےٰ ﷺ پر صلوات و سلام بھیجتے ہیں۔ اس بشارت کو پانے کے لیے عشق کے ساتھ راہ سفر اختیار کرنے والے، استنبول کے روحانی معمار حضرت ابو ایوب انصاری سمیت تمام اصحاب کریمہ اور ان کے احکامات پر چلنے والوں پر سلام ہو۔ فتح، تسلط نہیں احیاء، تخریب نہیں تعمیر نو کے نظریے کے ساتھ اناطولیہ کے دروازے ہماری ملت کے لیے کھولنے والے سلطان الپ ارسلان پر، اس وطن کی سرزمین کو قائم رکھتے ہوئے ہمیں امانت پہنچانے والے شہیدوں، غازیوں پر اور ہمارے جغرافیہ کو ایمان کے ساتھ گوندھنے والے تمام سلاطین پر سلام ہو۔ فتح سے اپنی محبت کو سلطان محمد کے قلب پر نقش کرنے والے، 1 جون 1453ء کے دن، آیا صوفیا میں پہلا نماز جمعہ پڑھانے والے علم و حکمت کے طبیب حضرت آق شمس الدین پر سلام ہو”۔

فاتح سلطان محمد خان پر سلام ہو

سربراہ صدارت امور دیانت، علی ایرباش نے خطبہ دیتے ہوئے مزید کہا:

‘اس کے بعد تمیں ایک کام کا وعدہ نہ دوں؟ اللہ پر یقین رکھو، بالکل اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو اس پر یقین کرتا ہے’، ان آیات جلیلہ کے ساتھ دل سے جڑے اُس نوجوان اور ذی شعور بادشاہ، تاریخ، ادبیات، سائنس اور فن میں عالی دماغ، اپنے عہد میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا مجدد، اپنے بیڑوں کو مٹی سے لا کر سمندر میں اتارنے والے، اللہ تعالیٰ کے حکم اور اذن کے ساتھ استنبول کو فتح کرنے والے، اس کے بعد بھی اس شہر کو کبھی ذرا بھر بھی نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دینے والے، جنت مکان رکھنے والے فاتح سلطان محمد خان پر سلام ہو۔ آیا صوفیا کو میناروں سے سجانے والے، اسے صدیوں قائم رہنے والی قوت بنانے والے، معماروں کے پیر، عظیم ماہر تعمیرات معمار سنان پر سلام ہو۔ دنیا کے چہار طرف آیا صوفیا کو دوبارہ مسجد میں کھولنے کا شدت سے انتظار کرنے والے اور محبتوں کے ساتھ اس کے کھلنے کی خوشی منانے والے تمام مومنین بھائیوں پر سلام ہو۔ آیا صوفیا کی اذان، واعظ، خطبہ، دعا، تلاوت، علمی سرگرمیوں اور پُروقار اور معظم جماعت تک پہنچانے والے، کل سے آج تک تمام محنت کرنے والے ہمارے بزرگوں پر سلام ہو۔ آیا صوفیا کو ‘ہمارے گھر میں ہماری روح اور مقدس کمرہ” کہنے والے اور "آیا صوفیا، ضرور ایک دن کھلے گی، انتظار کرو نوجوانوں، ذرا مزید رحمت نچھاور ہونے دو۔ ہر بارش کے پیچھے ایک سیلاب موجود ہوتا ہے، اگر اس سیلاب کا میں ایک چھوٹا سا ذرہ ہو جاؤں، تو مزید کیا چاہوں، یہ (آیا صوفیا) ایک عزیز کتاب کی طرح کھلے گا’ یہ کہتے ہوئے امید اور صبر دلانے والے، علم و فکر دینے والے انسانوں پر، عرفان اور احسان کے نقیبوں پر سلام ہو، ان جملہ انسانوں پر رحمت ہو”۔

آیا صوفیا، انسانی تاریخ کے قیمتی علم، حکمت اور عبادت کے سب بڑے مقامات میں سے ایک ہے

آیا صوفیا، 15 صدیاں طوالت پر محیط انسانی تاریخ کے قیمتی علم، حکمت اور عبادت کے سب بڑے مقامات میں سے ایک ہے، کہتے ہوئے علی ایرباش نے کہا، "یہ قدیم معبد، اللہ رب العالمین کی بندگی اور اطاعت کا ایک حیرت انگیز اظہار ہے”۔

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ فاتح سلطان محمد کی آنکھوں کی تارہ بننے والی یہ مہتشم عبادت گاہ، تاقیامت مسجد بناتے ہوئے وقف ہوئی اور اب یہ امانت مسلمانوں کے پاس ہے، خطبہ جاری رکھا:

"ہمارے عقیدے میں، وقف مال کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ ہاتھ لگانے والے کو جلا دیتا ہے۔ وقف کرنے والے کی شرائط سے روگردانی نہیں کی جا سکتی ہے، ایسا کرنے والا لعنت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اس لیے، اُس دن سے آج تک آیا صوفیا، صرف ہمارے ملک کے لیے نہیں، بیک وقت تمام امت محمدیہ کے لیے حریمِ عصمت ہے۔ آیا صوفیا، اسلام کی وسیع رحمت میں ایک بار پھر دنیا کے سامنے علی الاعلان آنے والی جگہ ہے۔ فتح کے بعد آیا صوفیا میں پناہ لینے والوں اور اپنے بارے حکم کا انتظار کرنے والوں کو فاتح نے کہا تھا، ‘آج کے بعد اپنی آزادی اور زندگی کے بارے تم بالکل نہیں ڈرو۔ کسی کا مال نہیں چھینا جائے گا، کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا، کسی کو اس کے دین کی وجہ سے کوئی سزا نہیں دی جائے گی’۔ ایسا ہی کہا اور پھر ایسے ہی کیا۔ تو اُس موقع پر آیا صوفیا، باہمی عقائد کے احترام اور اخلاقی بقائے باہمی کی علامت بن گئی”۔

آیا صوفیا کا مسجد بننا، دنیا بھر کی مغموم مساجد پر پانی کے چھینٹے ہیں

علی ایرباش نے کہا کہ آیا صوفیا کا مسجد بننا، بنیادی توحید، علم کے ستون اور تقویٰ رکھنے والی اسلامی تہذیب کی تمام مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کی علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا، "آیا صوفیا کا مسجد بننا، سراول مسجد اقصیٰ سمیت دنیا بھر کی مغموم مساجد اور مظلوم مسلمانوں پر پانی کے چھینٹے ہیں۔ آیا صوفیا کا مسجد بننا، ایمان اور وطن سے محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھنے والی عزیز ملت کا، اپنی جڑوں سے حاصل کی گئی روحانی قوت کے ساتھ ایک مستحکم مستقبل کی تعمیر کا عزم ہے”۔

ہماری تہذیب میں مسجدیں، اتحاد، استقامت، بھائی چارگی، عقائد اور تسکین کے سر چشمے ہیں، یہ کہتے ہوئے ڈاکٹر علی ایرباش نے اپنا خطبہ جاری رکھا، "رب العظیم الشان، چھوٹی اور بڑی مساجد آباد کرنے والوں کے بارے یہ فرماتے ہیں، ‘اللہ کی مساجد کی تعمیر بے شک اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے، خشوع و خصوع کے ساتھ نماز پڑھنے والے، زکوٰۃ دینے والے اور اللہ کے سوا کسی اور سے نہ ڈرنے والے ہی کرتے ہیں۔ عنقریب یہی لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوں گے’۔”

"خاموش میناروں، ویران منبر، ساکت وصاحت گنبد، بے آباد صحن رکھنے والی مسجد سے زیادہ مغموم اور کیا ہو سکتا ہے؟” یہ سوال کرتے ہوئے ڈاکٹر علی ایرباش نے کہا، "آج، اسلام دشمنی کی وجہ سے دنیا کے مختلف خطوں میں مساجد پر حملہ کیا جاتا ہے، ان کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، حتی کہ بمبوں سے شہید کر دی جانے والی مساجد بھی موجود ہیں۔ مظلوم اور مغموم چہروں کے ساتھ لاکھوں مسلمان اس ظلم کو سہتے ہیں۔ فاتح سلطان محمد کا 5 صدیاں قبل آیا صوفیا میں دکھایا گیا مہتشم رویہ آج کی دنیا کے سامنے ایک مثال ہے۔ میں آج تمام انسانیت کو اسلام مخالف بیانیے اور اقدامات کو ظلم کہنے کی دعوت دیتا ہوں”۔

دیانت کے سربراہ نے مزید کہا کہ "اس لیے اس زمین پر اچھائی، حق اور عدل کے قیام کے لیے دن رات کام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ بڑے مسائل میں گھری لاچار انسانیت کے لیے یہ آزادی کی امید ہے۔ ظلم اور ناانصافی کے آنسوؤں اور لاچارگی میں گھرے جغرافیے کے لیے عدل و انصاف کی گارنٹی ہے۔ ‘اے مسلمانو! اسلام کو ایسے خوبصورت اور درست طریقے سے سمجھو، اپناؤ اور سمجھاؤ کہ تمہیں قتل کرنے کے لیے آنے والے کو بھی تم بدل دو’ اس پیغام کو زندہ کرتے ہوئے ایک احیائی تحریک ہمیں شروع کرنا چاہیے۔ ہمارا ایقان ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے الفاظ کے ساتھ ‘تمام انسان یا تو دینی طور پر بھائی ہوتے ہیں یا پھر پیدائشی طور پر شریک حیات’، ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ زمین ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ عقیدہ، نسل، رنگ، مٹی جو بھی ہو، اس گھر میں بطور ایک فرد ہر ایک، تحفظ کے ساتھ کائناتی اقدار اور اخلاقی فریم ورک میں آزادی اور انسانیت کے ساتھ رہنے کا حق دار ہے۔

علی ایرباش نے مزید کہا کہ ہم آیا صوفیا کے گنبد کے نیچے تمام انسانیت کو عدل، امن، رحمدلی اور حقانیت کی طرف بلاتے رہیں گے،”ہم انسان کے افتخار کو بڑھانے والی، ہمیں اشرف المخلوقات بنانے والی کائناتی اقدار اور اخلاقی اصولوں پر کھڑے ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ مرد اور عورت، بچے اور جوان، بوڑھے ہر ذی جان کو نقصان نہ پہنچانے کا اعلان کرنے والے آخری اور برحق دین کے پیروکار ہونے کے واسطے انسانوں کی جان، دین، عقل، مال اور نسلوں کے تحفظ کے لیے تعاون اور اتحاد کی طرف بلاتے ہیں۔ کیونکہ آج قلب کے ساتھ اپنے امکانات، عقل کے ساتھ اپنے وجدان کو یکجا کرنے، انسان کو انسان سے ملانے، انسان کو فطرت سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت سب سے زیادہ ہے”۔

آیا صوفیا کے دروازے، اللہ کی تمام مخلوق کے لیے کھلے رہیں گے

خطبے کے آخر پر "اس پُرافتخار مقام سے تمام دنیا سے مخاطب ہونا چاہتا ہوں” کے الفاظ کے ساتھ اختتامی جملے ادا کئے:

اے انسانو! آیا صوفیا کے دروازے، بالکل سلیمانیہ، سلیمیہ، سلطان احمد اور دیگر مساجد کی طرح، بلاتمیز اللہ کی تمام مخلوق کے لیے کھلے رہیں گے۔ آیا صوفیا کے روحانی ماحول میں عقائد، عبادت، تاریخ اور تفکر کا سفر، ان شاء اللہ بلا روک ٹوک جاری رہے گا۔ جنابِ حق، ہماری عالی شان تاریخ میں ممتاز مقام رکھنے والی، ہمارے قلوب میں استثنائی قدر رکھنے والی آیا صوفیا مسجد کی خدمت، حق کے ساتھ ہمارے نصیب کرے۔ آیا صوفیا جیسی سراپا احتشام مسجد شریف کا احترام کرنے کی توفیق دے۔ اللہ تعالیٰ ریاست کے بڑوں، جنہوں نے ہماری ثقافت اور پہچان کی حفاظت کے لیے آیا صوفیا کو دوبارہ مسجد بنایا، دعا کرنے والوں اور محبتیں پھیلانے والے ہر شخص کی محبت سے راضی ہو جائے”۔

وما الینا الالبلاغ المبین

ترکش سے ترجمہ: غلام اصغر ساجد

تبصرے
Loading...