مارٹن لوتھر کنگ ایف بی آئی تحقیقات کا ہدف رہے، امریکی محفوظ شدہ دستاویز سے انکشاف

0 167
Rev. Dr. Martin Luther King Jr. speaking. (Photo by Julian Wasser//Time Life Pictures/Getty Images)

حال ہی میں سابق امریکی صدر جان ایف کینڈی کے قتل بارے رہلیز ہونے والی امریکی دستاویز میں 20 صفحات معروف سماجی حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ بارے ایف بی آئی کے ریمارکس پر مشتمل ہیں۔ یہ ریمارکس مارٹن لوتھر کنگ کے قتل ہونے سے ایک ماہ قبل 12 مارچ 1968ء کو لکھے گئے تھے۔

ریمارکس کا ایک حصہ یہ ثابت کرتا ہے کہ کنگ امریکا کی کیمونسٹ پارٹی کے سابق ارکان کو اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پچھلے دونوں ترجمانوں سمیت آٹھ دوسرے افراد کیمونسٹ پارٹی کے ممبر تھے جنہوں نے کنگ کی نومولود تنظیم کی ساخت بنائی۔

1960ء کے تجزیات بتاتے ہیں کہ کیمونسٹ پارٹی امریکا میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بلیک لیبر کے ساتھ مل کر اتحاد کی شکلیں ڈھونڈ رہی تھی۔ اس کے حوالے میں مئی 1961ء کے ایک کیمونسٹ اخبار کا حوالہ دیا جاتا ہے جس نے لکھا تھا کہ "کیمونسٹ، نیگرو تحریک کو مضبوط اور متحد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور اور اسے میدان میں کام کرنے والوں کے دائرے میں شامل کریں گے”۔

ایف بی آئی کی دستاویز کے مطابق مارٹن لوتھر کنگ اور اس کی تنظیم کو ان مقاصد کے حصول کے لیے اپنی مرضی سے ڈھالا گیا۔

ایف بی آئی کی طرف سے مارٹن لوتھر کنگ کی نگرانی مشہور ہے اور حالیہ دستاویز میں کئی صفحات اس کی جنسی زندگی کی تفصیل بھی دیتے ہیں۔ ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایک کالا وزیر جو میامی میں فروری 1968ء میں وزراء کو ٹریننگ دینے کے ایک ورکشاپ میں گیا۔ اس نے پردے کے پیچھے شراب نوشی، زنا اور ہم جنس پرستی پر نفرت کا اظہار کیا جو کانفرنس کے ساتھ چل رہی تھیں۔

ایف بی آئی رپورٹ مزید کہتی ہے کہ مارٹن لوتھر کنگ آج کی تاریخ تک جنسی تعلقات جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ عوامی سطح پر وہ خود ایک مذہبی طور پر ثابت شدہ اخلاقی رہنما باور کرواتے ہیں۔

تبصرے
Loading...