اگر ترکی شام میں داخل ہوا تو امریکی افواج واپس چلی جائیں گی

0 329

اگر ترکی دریائے فرات کے مشرقی علاقے میں کوئی آپریشن شروع کرتا ہے تو ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ طور پر شام سے تمام امریکی فوجی اہلکاروں کو نکال لے گی۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی عہدیداروں سے گفتگو پر مبنی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ واشنگٹن کے پاس "واضح ثبوت” ہیں کہ ترک آپریشن ناگزیر ہے۔ ایک عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر بتایا کہ "یہ ایک یقینی طوفان ہے اور بدترین ہے۔ چھوڑنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہو سکتا۔”

طویل عرصے سے ترک عہدیدار یہ کہہ رہے ہیں کہ انقرہ اپنی سرحدوں کے ساتھ PKK سے تعلق رکھنے والے پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کی موجودگی کی اجازت نہیں دے گا۔ حالیہ چند مہینوں میں علاقے میں ترک افواج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کی گئی ہے جو ایک آپریشن کے آغاز کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

ایک ذرائعکا کہنا ہے کہ عہدیداروں کو خدشات ہیں کہ ترکی کا کوئی بھی قدم اچانک ہوگا اور امریکی دستوں کے لیے تیاری کا موقع نہیں ہوگا کیونکہ انقرہ کی جانب سے کوئی بھی قدم اٹھانے سے 48 گھنٹے پہلے تک کا انتباہ بھی ناکافی ہوگا۔

7 اگست کو ترک اور امریکی عسکری عہدیداروں نے ترکی میں رہنے والے شامی مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کو یقینی بنانے دریائے فرات کے مشرقی میں عراقی سرحد تک ایک سیف زون کے قیام اور ایک امن راہ داری کی تیاری پر اتفاق کیا۔ اس ماہدے میں ترکی کے سکیورٹی خدشات کو ختم کرنے کے لیے علاقے کو YPG سے خالی کرانے سمیت ضروری سکیورٹی اقدامات اٹھانا شامل ہیں کہ جسے ترکی کے اعتراضات کے باوجود امریکا کی پشت پناہی حاصل ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان اور دیگر ترک عہدیدار بارہا امریکا کو خبردار کر چکے ہیں کہ مجوزہ سیف زون پر مشترکہ کام کے "مطلوبہ نتائج” حاصل نہیں ہوئے اور اس پیش رفت کو روکنے کی کسی بھی دوسری کوشش کا نتیجہ انقرہ کی جانب سے اپنا قدم خود اٹھانے کی صورت میں نکلے گا۔

گزشتہ دسمبر میں ترکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام سے فوج کے انخلاء کے فیصلے کے بعد شام میں YPG کے مقبوضہ علاقوں میں اپنا آپریشن مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انخلاء کے اس فیصلے کو یہ سمجھا گیا کہ اب امریکا کی جانب سے YPG کی حمایت کے ارادے بھی ختم ہو جائیں گے۔

YPG اور اس کے ماتحت گروپ شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) ترکی اور امریکا کے مابین سالوں سے ایک متنازع فیہ مسئلہ ہیں کیونکہ واشنگٹن ترکی کے بھرپور مطالبات اور احتجاج کے باوجود انہیں داعش کے خلاف جنگ میں اہم اتحادی سمجھتا ہے اور انہیں بھاری اسلحہ فراہم کرتا ہے۔

تبصرے
Loading...