امریکی حمایت یافتہ وائے پی جی کا عسکری مقاصد میں کم سن بچوں کا استعمال، نئے ثبوت

0 1,684

شام میں امریکی حمایت یافتہ وائے پی جی کی طرف سے کم سن بچوں کو عسکری مقاصد میں استعمال کرنے کے نئے ثبوت سامنے آئے ہیں۔ قطع نظر کہ عالمی قوانین اس عمل پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ نئے ثبوت ترک فوج کی طرف سے سامنے آئے ہیں جو اس وقت وائے پی جی کے گڑھ عفرین میں کامیابی سے آپریشن کر رہی ہے اور فتح ہونے والے علاقوں میں قائم اس پناہ گاہوں اور املاک کی تلاشی لے رہی ہے۔

عالمی خبر رساں ترک انا دولو ایجنسی کے مطابق یہ برقی ثبوت کیمروں اور میموری کارڈ سے سامنے آئے ہیں جو ہلاک شدہ پی وائے جی دہشتگردوں اور ان کی پناہ گاہوں کی تلاشی میں حاصل ہوئے۔

وائے پی ڈی اور وائے پی جی تنظمیں شام میں ترک پی کے کے کی تنظمیں ہیں۔ پی کے کے کو ترکی سمیت امریکہ اور یورپی یونین دہشتگرد قرار دے چکے ہیں۔ پی کے کے اور وائے پی جی کے درمیان تعلقات کی موجودگی کا اعتراف امریکی دفاعی سیکرٹری سینٹ کے سوال و جواب میں کر چکے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف امریکہ وائے پی جی کو داعش کے خلاف جنگ کے نام پر نہ صرف بھاری جنگی ساز و سامان فراہم کرتا ہے بلکہ عسکری تربیت بھی دیتا ہے۔ اگرچہ یہ تنظیم انسانی حقوق  کی خلاف ورزیوں اور پرتشدد کاروائیوں میں مشغول رہتی ہے۔

حاصل ہونے والے ثبوتوں میں بچے وائے پی جی کی وردی پہنے، ہاتھوں میں مشین گنیں اٹھائے پی کے کے/وائے پی جی کے گرفتار رہنما عبد اللہ اوکلان کی تصویر کے ساتھ فوٹو بنواتے نظر آتے ہیں اور کہیں ٹریننگ کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس سے قبل عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسا کہ ہیومن رائٹس واچ، ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کی تنظیمیں وائے پی جی اور پی کے کے کی طرف سے عسکری مقاصد میں بچوں کو استعمال کرنے کی تصدیق کر چکی ہیں۔

12 فروری کو اقوام متحدہ کی شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ شام میں گذشتہ سات سالہ خانہ جنگی میں سب سے زیادہ کم سن جنگجوؤں کو استعمال کیا گیا ہے۔

اس سے قبل مقامی آبادی کہتی رہی ہے کہ پی کے کے/وائے پی جی دہشتگرد زبردستی ہر گھر سے ایک بچہ اپنے جنگی مقاصد کے لیے اٹھاتے ہیں۔ اگر کسی گھر میں کوئی بچہ نہ ہو تو اس نقد امداد کی صورت میں حصہ ڈالنے کے لیے کہا جاتا ہے۔

اس دوران اقوام متحدہ کے تحقیقاتی عہدیداروں نے جمعرات کے روز شامی جمہوری فورس (ایس ڈی ایف) کو شام کے جنگ زدہ علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شہریوں پر حملے میں مورد الزام ٹھہرایا ہے، جس کی قیادت پی وائے جی کرتی ہے اور امریکہ کی پشت پناہی اور تعاون کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

یہ رپورٹ شامی خلاف ورزیوں کی سرگزشت پر اقوام متحدہ کے کمیشن آف انکوائری نے جاری کی ہے جو جولائی 2017ء سے جنوری 2018ء تک 500 سے زائد انٹرویوز کی مدد سے مرتب کی گئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "ایس ڈی ایف کی جو خلاف ورزیاں نوٹ کی گئی ہیں ان میں بچوں سمیت جبری بھرتیاں بھی ہیں”۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگرچہ رقہ اور دائر ازور میں داعش پر ہونے والوں حملوں نے اس دہشتگرد گروپ کو اکھاڑ دیا لیکن یہ سب شہریوں کی بھاری قیمت پر ہوا-

رپورٹ میں لکھا گیا ہے، "حتی کہ رقہ شہر کو قبضہ میں لینے کی مہم سے پہلے، عالمی اتحاد شہریوں اور شہری املاک، عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے تحفظ کے لیے احتیاطی اقدامات اٹھانے میں ناکام رہا- جب المنصورہ پر فضائی حملہ کیا گیا تو اس میں 150 سے زائد افراد مارے گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے”ـ

عفرین آپریشن کے دوران بھی "لوکل اتھارٹی” شہریوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کر رہی ہے- اس بات کی تصدیق اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹفنے دوجارک نے سوموار کے روز کی جس میں پی کے کے کی شامی شاخ پی وائے ڈی اور وائے پی جی کے حوالے سے بات کی گئی-

ترک صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے عفرین میں شہریوں کی نقل و حرکت کی بندش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "وائے پی جی/پی وائے ڈی عفرین کو قندیل بنانے کی کوشش کر رہی تھیں- تاہم یہ کوشش ناکام بنا دی گئی ہے”-

اطلاعات کے مطابق یہ تنظیمیں ترکی کے آپریشن کے دوران شہریوں کو بطور ڈھال استعمال کر رہی ہیں- دہشتگرد شہری لباس پہنتے ہیں اور گھروں پر پوزیشن بنا کر بیٹھتے ہیں تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ ترک اور آزاد شامی فوج شہریوں پر حملہ کر رہی ہیں-

تبصرے
Loading...