امریکہ اب داعش مخالف اتحاد کی بات نہیں کر سکتا، کرد آرمی مزید انتشار پھیلائے گی، ترک وزیرخارجہ

0 3,130

وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 3000 پر مشتمل شامی جمہوری فوج جس میں زیادہ تر وائی پی جی کے دہشتگرد شامل ہیں کے خطہ پربرے اثرات مرتب ہون گے اور یہ مزید انتشار پھیلانے کا باعث بنے گی۔

کینیڈا کے شہر وینکوور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کو واضح کرنا چاہئے کہ وہ کس طرف ہے؟ آیا وہ اتحادیوں کے ساتھ ہے یا اس نے دہشتگردوں کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟۔

میولوت چاوش اولو نے زور دے کر کہا کہ امریکہ داعش مخالف اتحاد کی جگہ کوئی بھی بیان جاری نہیں کر سکتا۔ وائی پی جی کے دہشتگردوں پرمشتمل آرمی بنانے کے فیصلہ سے خطے میں انتشار کو مزید ہوا ملے گی۔

میولوت چاوش اولو کا بیان امریکہ کی زیر سرپرستی بین ا لاقوامی داعش مخالف اتحاد کے اتوار کوہونے والے اعلان کہ بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ کی حمائت یافتہ شامی ڈیمو کریٹک فورسز اور وائی پی جی کو ملا کر 3000افراد پر مشتمل ایک بارڈر سیکیورٹی فورس تیار کرنے کا کہا جس میں زیادہ تر وائی پی جی کے جنگجو شامل ہوں گے جو کہ کرد دہشتگرد تنظیم (پی کے کے) کی ذیلی تنظیم ہے۔

ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم دہشتگردوں کے خلاف اسکی پرواہ کئے بغیر کہ ان کی مددکون کر رہا ہے اپنے اقدامات کریں گے اب چاہے وہ امریکہ ہے یا کوئی اور ملک ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے۔

شام میں ممکنہ آفرین آپریشن شروع کرنے کہ بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ترکی وائی پی جی اور پی وائی ڈی جیسی تحریکوں سے ایسے ہی نمٹے گا جیسے وہ پی کے کے سے لڑا۔

ترکی ایک عرصہ سے پی وائی ڈی اور پی کے کے کی امریکی حمایت پر تنقید کر رہا ہے جبکہ امریکی حکام اس تنقید کا جواب یہ کہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں کہ داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کو ان تنظیموں کی مدد درکار ہے۔

پی وائی ڈی، پی کے کے کی شامی ذیلی تنظیم ہے جسے ترکی ، یورپین یونین اور امریکہ نے دہشتگرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

پی کے کے نے گزشتہ 30سال سے ترکی میں دہشتگرد کارروائیوں کر رہی ہے جسمیں اب تک 40000 ترک شہری اور فوجی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ جولائی 2015 سے اب تک کے قلیل عرصہ میں 1200افراد ان کے حملوں میں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...