ترکی کے انجیرلک ایئربیس کا متبادل، امریکا یونانی جزائر پر غور کرنے لگا

0 209

امریکا ترکی کے جنوب مشرقی صوبہ ادانہ میں واقع اپنے اسٹریٹجک انجیرلک ایئربیس کو چھوڑنے کے منصوبے بنا رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ وہ اس اڈے کو یونانی جزائر پر منتقل کر دے۔

امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات ذیلی کمیٹی برائے یورپ کے چیئر رون جانسن نے کہا ہے کہ "ہمیں نہیں معلوم کہ انجیرلک کے ساتھ کیا ہوگا۔ امید اچھی رکھنی چاہیے لیکن منصوبہ بندی بدترین حالات کے لیے کرنی چاہیے۔

جانسن نے کہا کہ امریکا ترکی میں بھرپور موجودگی اور تعاون چاہتا ہے اور اس "اسٹریٹجک تبدیلی” کا خواہاں نہیں۔ "ہم پہلے ہی یونان کو متبادل کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں۔” امریکا یونانی جزیرے کریٹ کی خلیج سودا میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔

یونانی اور امریکی افواج مغربی تھریس کے قریب مشترکہ جنگی مشقوں کا منصوبہ بھی بنا رہے ہیں کہ جہاں یونان کی ترک اقلیت رہتی ہے۔

جولائی میں پومپیو نے اعلان کیا تھا کہ کہ وہ عسکری تربیت کے پروگرام 2020ء میں یونانی قبرص کو بھی شامل کرے گا۔

ترکی کے صوبہ ادانہ میں شامی سرحد سے 110 کلومیٹرز دور واقع انجیرلک ایئربیس 1954ء میں اپنے قیام سے ہی تزویراتی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس نے سرد جنگ، 1990-91ء کی جنگِ خلیج اور شام و عراق میں داعش کے خلاف امریکی آپریشن میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ترکی بھی انجیرلک ایئربیس کو بند کرنے کے امکانات ظاہر کر چکا ہے، جس کے ساتھ ہی خطے میں امریکی منصوبوں میں تبدیلی آئے گی۔

صدر رجب طیب ایردوان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ترکی ادانہ میں یہ بیس اور مشرقی ملاطیہ صوبے میں کوریجک ریڈار اسٹیشن کو بند کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

انجیرلک روس، ایران اور مشرق وسطیٰ میں عرب ملکوں کے خلاف اہم آپریشنل صلاحیت کا حامل اڈہ ہے۔ 1975ء میں ترکی نے تین سال کے لیے انجیرلک کو امریکا کے لیے بند کر دیا تھا اور نیٹو کا استعمال بھی محدود کر دیا تھا۔

تبصرے
Loading...