ترکی پر پابندیاں لگانے کے لیے امریکی ایوانِ نمائندگی میں ایک بل کی منظوری

0 288

امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک ڈیفنس بل کی منظوری دی ہے کہ جس کے نتیجے میں روس سے S-400 میزائل سسٹمز خریدنے پر ترکی پر پابندیاں لگانے کی راہ ہموار ہوگی۔

740 ارب ڈالرز کے ڈیفنس بل کے حق میں 335اور مخالفت میں 78 ووٹ پڑے، یعنی یہ دو تہائی اکثریت سے منظور ہوا ہے اور یوں صدر کا ویٹو اختیار ختم کر سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر سینیٹ نے بھی اس بل کو منظور کر لیا تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔

ٹرمپ کی ویٹو پاور کو روکنے کے لیے سینیٹ کو بھی دو تہائی اکثریت سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ سینیٹ رواں ہفتے کے اختتام تک اس بل پر ووٹ کرے گی۔

یہ بل قانون کی منظور کے 30 دن کے اندر اندر پابندیاں لاگو کرنے کا کہتا ہے۔ اس کے مطابق "ترکی کی جانب سے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم حاصل کرنے میں جان بوجھ کر شامل ہر شخص پر پابندی” عائد کی جائے گی۔ البتہ بل صدر کو ایک سال بعد پابندیاں منسوخ کرنے کی اجازت دے گا۔

ویسے ٹرمپ کا اختلاف ترکی پر پابندیوں کے حوالے سے نہیں ہے، بلکہ وہ اس حصے سے متفق نہیں جو سوشل میڈیا کمپنیوں کو لیگل انشورنس فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ صدر کو ایک اور شق سے اختلاف ہے جو جرمنی اور افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کو محدود کرتی ہے۔

نیٹو اتحادی ترکی اور امریکا کے تعلقات پچھلے سال سے کشیدہ ہیں جب ترکی نے روس سے جدید S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدا تھا۔ اس کے بعد امریکا نے ترکی کو F-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام سے نکال دیا تھا۔

ڈیفنس بل ٹرمپ سے CAATSA ایکٹ کے تحت پابندیاں لگانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ قانون، جس پر ٹرمپ نے 2017ء میں دستخط کیے تھے، صدر کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ویزوں پر پابندی اور امریکا میں قائم ایکسپورٹ-امپورٹ بینک تک رسائی روکنے سے لے کر امریکی مالیاتی نظام میں لین دین سے روکنے اور ایکسپورٹ لائسنس تسلیم نہ کرنے جیسی سخت 12 اقدامات میں سے پانچ کا انتخاب کرے اور یہ پابندیاں اس ملک پر لگا دی جائیں۔

انقرہ نے امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائلز خریدنے میں ناکامی کے بعد S-400 خریدا تھا کیونکہ وہ واشنگٹن کی شرائط پر راضی نہیں تھا۔ ترکی کا کہنا تھا کہ وہ معاہدے پر تبھی راضی ہوگا جب ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار کی شرائط پوری ہوں گی۔ انقرہ بارہا کہہ چکا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیٹریاٹ دینے سے انکار ہی کی وجہ سے اسے دوسرے ممالک سے رجوع کرنا پڑا اور روس نے ٹیکنالوجی کی منتقلی سمیت بہتر ڈیل پیش کی۔

تبصرے
Loading...