امریکا اور ایران تناؤ کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھائیں، ایردوان

0 350

ترکی اہم ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی بغداد میں ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی حالات پر سخت تشویش سے دوچار ہے کیونکہ لگتا ہے کہ یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوگا، ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا۔

"کسی ملک کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے یوں قتل ہونے کے بعد کوئی ریاست خاموش نہیں بیٹھے گی،” انہوں نے سی این این ترک کو دیے گئے ایک نشریاتی انٹرویو میں کہا۔

ایردوان نے کہا کہ امریکا اور ایران دونوں کو تناؤ کو کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

"میں نے حملے سے چار یا پانچ گھنٹے پہلے (امریکی صدر ڈونلڈ) ٹرمپ سے بذریعہ ٹیلی فون سے بات کی کہ وہ ایران کے حوالے سے ضبط کا دامن نہ چھوڑیں۔ ہمیں یہ خبر سن کر بہت حیرت ہوئی،” ایردوان نے کہا۔

صدر نے مزید کہا کہ امریکا-ایران تناؤ کی وجہ سے عراق کو میدانِ جنگ بنانا خطے کے استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایک امریکی حملے میں ہلاک ہوئے۔ ایران کی پشت پناہی رکھنے والی عراقی ملیشیا کے رہنما ابو مہدی المہندس بھی اس حملے میں مارے گئے۔

یہ حملہ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں، بالخصوص سعودی عرب اور اسرائیل، کو ایران اور خطے میں اس کی پشت پناہی سے کام کرنے والی ملیشیاؤں کے مقابلے میں مشکل مرحلے میں لے آیا ہے۔

لیبیا میں ترک فوجیوں کی تعیناتی کے حوالے سے صدر ایردوان نے زور دیا کہ اس وقت روس کے ویگنر پیراملٹری گروپ کے 2,500 اور سوڈان کے 6,000 اہلکار لیبیا میں موجود ہیں۔ "جب ایک قانونی حکومت ہم سے مطالبہ کر رہی ہے تو ہم کیوں نہ جائیں،” انہوں نے پوچھا۔

ایردوان نے کہا کہ ترک فوجی پچھلے ہفتے پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد لیبیا میں تعینات ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ "وہاں ہمارے فوجیوں کی ذمہ داری ہم آہنگی ہوگی۔ وہ وہاں ایک آپریشن سینٹر بنائیں گے۔ ہماری فوجی مرحلہ وار وہاں جا رہے ہیں۔”

صدر مملکت نے کہا کہ ترکی کا ہدف "لڑنا” نہیں، بلکہ "قانونی حکومت کی مدد کرنا اور کسی انسانی سانحے سے بچانا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ترکی اپنی مسلح افواج تعینات نہیں کرے گا۔ "اس وقت ہم لڑاکا دستوں کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے دیگر یونٹس بھیجیں گے۔”

سینئر ترک عسکری اہلکار "لڑاکا دستوں” کو ترتیب دیں گے، صدر ایردوان نے واضح کیا کہ وہ طرابلس کی مدد کے لیے اپنا تجربہ اور معلومات پیش کریں گے۔

صدر نے کہا کہ ترکی، جرمنی، برطانیہ اور فرانس فروری میں استنبول میں شام کے حوالے سے چار فریقی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

تبصرے
Loading...