امریکا نے ترکی پر عائد تمام پابندیاں اٹھا لیں

0 300

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ آپریشن چشمہ امن کو روکنے کے بعد ترکی پر لگائی گئی تمام پابندیاں اٹھا لے۔ ترکی نے پیپلز پروٹیکشن یونٹ (YPG) کے دہشت گردوں کے خلاف شمالی شام میں یہ آپریشن شروع کیا تھا کہ جو امریکا کی یقین دہانیوں کی وجہ سے روکا گیا۔

وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کی معمولی تعداد بدستور علاقے میں موجود رہے گی کہ جہاں شام کا تیل موجود ہے۔ "ہم نے تیل کو محفوظ بنا لیا ہے اور اسی لیے امریکی فوجیوں کی ایک معمولی سی تعداد علاقے میں برقرار رکھے گی کہ جہاں تیل موجود ہے۔” انہوں نے کہا۔

"ہم نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ آئیں اور (داعش کے) وہ جنگجو لے لیں کہ جو امریکا نے پکڑے ہیں اور ان پر اپنے اپنے ملکوں میں مقدمات چلائیں۔ اب تک یورپ نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دکھایا حالانکہ وہ عرصے سے اس کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اب ان کے پاس موقع ہے کہ عمل کریں۔ اب ترکی، شام اور خطے کے دوسرے ملکوں کو اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنا ہوگا کہ داعش ایک مرتبہ پھر علاقے میں سر نہ اٹھائے۔ وہ ان کا علاقہ ہے، اس کی دیکھ بھال انہوں نے کرنی ہے، ہم صرف دھیان رکھیں گے،” امریکی صدر نے کہا۔

ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی وزارت خزانہ نے بیان میں کہا کہ انہوں نے ترکی کی وزارتوں اور وزراء پر عائد پابندیاں اٹھا لی ہیں۔

قبل ازیں ٹرمپ نے سیف زون معاہدے پر ترکی اور روس کے اتفاق کے بعد ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ترک-شامی سرحد پر "بڑی کامیابی” حاصل کی گئی ہے۔

"سیف زون بن گیا! فائر بندی ہوگئی اور جنگی مشن ختم ہوگئے۔ کُرد محفوظ ہیں اور ہمارے ساتھ بخوبی کام کر ہے ہیں۔ پکڑے گئے داعش کے قیدی بھی محفوظ ہیں،” ٹرمپ کے ٹوئٹ میں کہا گیا۔

انقرہ اور ماسکو کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق ترک عسکری پولیس اور شامی سرحدی محافظین سرحد کے ساتھ 30 کلومیٹر کے علاقے میں YPG دہشت گردوں اور ان کے ہتھیاروں کے خاتمے میں سہولت کاری کریں گے۔ یہ انخلاء 150 گھنٹوں کے اندر ہونا ہوگا۔

ترک-روس معاہدہ صدر رجب طیب ایردوان اور صدر ولادیمر پوتن کے مابین مذاکرات کے بعد ہوا۔

ترکی شام کے اندر 120 کلومیٹر طویل اور 32 کلومیٹر عریض "سیف زون” کا تحفظ بھی کرے گا۔ روس اور ترکی اس زون میں مشترکہ گشت کریں گے۔

ترکی نے 9 اکتوبر کی شام داعش اور PKK کی شامی شاخ پیپلز پروٹیکشن یونٹ (YPG) کے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے سرحد پار انسداد دہشت گردی آپریشنز کے سلسلے کا تیسرا مرحلہ آپریشن چشمہ امن شروع کیا تھا۔ یہ آپریشن 17 اکتوبر کو انقرہ اور واشنگٹن کے مابین ہونے والے ایک معاہدے کے بعد روک دیا گیا کہ جس میں YPG کے دہشت گردوں کو پانچ دن کا وقت دیا گیا تھاکہ وہ مجوزہ سیف زون سے نکل جائیں۔ یہ وقت منگل کی شب ختم ہو گیا۔

تبصرے
Loading...