امریکا میں 2022ء تک سماجی فاصلے کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوگی، تحقیق

0 174

ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنس دانوں کے مطابق کروناوائرس کی وباء کے دوران امریکا میں اٹھائے گئے سماجی فاصلے کے اقدامات کو بہت لمبے عرصے تک لاگو رکھنے کی ضرورت پڑے گی، تقریباً 2022ء تک۔ ایک مرتبہ کا لاک ڈاؤن جدید کروناوائرس کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

اس وباء سے امریکا میں منگل کو 2,200 افراد مارے گئے ہیں جو ایک دن میں سب سے زیادہ اموات کا ایک ریکارڈ ہے۔ امریکا میں وائرس سے اب تک 28,300 اموات ہو چکی ہیں۔

جریدے ‘سائنس’ میں شائع ہونے والی تحقیق میں ہارورڈ کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 2022ء تک وقفے وقفے سے سماجی فاصلے کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے یہاں تک کہ انتہائی نگہداشت کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے یا ویکسین کی صورت میں علاج میسر آ جائے۔”

ہاورڈ ٹیم کی کمپیوٹر سمولیشن کا اندازہ ہے کہ COVID-19 ملتے جلتے کروناوائرسز کی طرح ایک موسمی بیماری بن جائے گی کہ جس کے پھیلنے کی شرح سردیوں کے مہینے میں زیادہ ہوگی۔

تحقیق کے سربراہ اسٹیفن کیسلر نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ "ہم نے پایا ہے کہ محض ایک مرتبہ اٹھائے گئے سماجی فاصلے کے اقدامات SARS-CoV-2 کو روکنے کے لیے ناکافی ہوں گے۔ اس لیے علاج کے دیگر طریقے موجودہ نہ ہونے کی صورت میں ضروری ہے کہ وقفے وقفے سے سماجی فاصلے کے اقدامات اٹھائیں۔

لاک ڈاؤن کا دورانیہ اور شدت کم زیادہ کیا جا سکتا ہے جیسے جیسے علاج اور ویکسین دستیاب ہو جائے۔ لیکن ان کی عدم موجودگی میں سماجی فاصلے کے اقدامات ہسپتالوں کو اپنی انتہائی نگہداشت کے یونٹس کی صلاحیت بڑھانے کا موقع دیں گے تاکہ وہ مریض بڑھنے کی صورت میں انہیں سنبھال سکیں۔

جنوبی کوریا اور سنگاپور کی مثال دیتے ہوئے سائنس دانوں نے لکھا ہے کہ مؤثر فاصلہ ہیلتھ کیئر سسٹمز پر موجود دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔ البتہ تحقیق میں تسلیم کیا گیا ہے کہ بڑے عرصے تک سماجی فاصلے کے منفی معاشی، سماجی اور تعلیمی نتائج نکلیں گے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ انفیکشنز کی تعداد اب تک اپنے عروج پر نہیں پہنچی۔ دنیا بھر میں 20 لاکھ سے زیادہ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں اور 1,24,000 اموات واقع ہوئی ہیں جن کے ساتھ یہ اِس صدی کی سب سے سخت عالمگیر وباء ہے۔

اس وائرس کا مرکز پہلے چین تھا اور اب امریکا ہو چکا ہے کہ جہاں COVID-19 سے سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

تبصرے
Loading...