امریکی پابندیوں سے ترک دفاعی صنعت زیادہ متاثر نہیں ہوگی

0 236

رواں ہفتے کے اوائل میں امریکی پابندیوں کا نشانہ بننے والے ترک دفاعی عہدیدار نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس سے ترک دفاعی صنعت زیادہ متاثر نہیں ہوگی۔

پریزیڈنسی آف ڈیفنس انڈسٹریز (SSB) کے سربراہ اسماعیل دیمیر نے کہا ہے کہ پابندیوں کا ہدف محض ان کا سرکاری ادارہ ہے اور اس سے قومی وزارتِ دفاع، ترک مسلح افواج یا دفاعی ادارے متاثر نہیں ہوں گے۔

اسماعیل دیمیر نے کہا کہ "اس لیے ‘ترکی پر پابندی’ کا جملہ استعمال کرنے کے بجائے میں ترجیح دوں گا کہ ‘ایک ادارے اور چار افراد پر پابندی’ کہا جائے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے۔”

انادولو ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے زور دیا کہ پابندیوں کا اطلاق موجودہ معاہدوں پر نہیں ہوگا کہ جن پر دستخط ہو چکے ہیں البتہ انہوں نے اس معاملے کی مزید تفصیل پیش نہیں کی۔

امریکا نے پیر کو اپنے Countering America’s Adversaries Through Sanctions Act یا مختصراً CAATSA قانون کے تحت اپنے نیٹو اتحادی ترکی کے ادارے SSB، اس کے سربراہ اور تین دیگر عہدیداروں پر پابندی لگائی تھی، جس کی وجہ روس سے S-400 ایئر میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری ہے۔

ترکی نے ان پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں "بڑی غلطی” قرار دیا ہے۔

دفاعی منصوبوں کی ترقی اور صنعتی شراکت داری کے لیے ترکی کے سب سے بڑے ادارے کی حیثیت سے SSB جیٹ انجن کی تیاری سے لے کر گولا بارود کی پیداوار تک 600 سے زیادہ منصوبوں کا ذمہ دار ہے۔

اس ادارے کو مشکل سے حاصل ہونے والی مصنوعات اور ٹیکنالوجیز کے حوالے سے غیر ملکی انحصار کو کم کرنے، قومی صنعتی صلاحیتوں کو بڑھانے اور دفاعی برآمدات میں اضافہ کرنے کا ہدف دیا گیا تھا۔

پابندی کے بعد اپنے ابتدائی ردعمل میں صدر رجب طیب ایردوان نے کہا تھا کہ یہ ترکی کی دفاعی صنعت پر ایک ‘جارحانہ حملہ’ ہے اور یہ ناکام ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پابندیوں سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پا لیں گے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ترکی خود مختار دفاعی صنعت کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کرے گا۔ ” اصل ہدف ترکی نے دفاعی صنعت میں جو کامیابیاں حاصل کی تھیں ان کو روکنا ہے اور ایک مرتبہ پھر ہمیں امریکا کا محتاج بنانا ہے۔ بلاشبہ مسائل پیدا ہوں گے، لیکن ہر مسئلہ ہمیں حل کے لیے ایک نئے دروازے کی جانب لے جائے گا۔

اسماعیل دیمیر نے کہا کہ کہا کہ "ترکی کا خریدا گیا S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم اپنی نوعیت کا بہترین نظام ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی پابندیاں ترکی کے لیے رکاوٹیں کھڑی نہیں کریں گی، بلکہ اس کے عزم کو مزید حوصلہ دیں گی۔

اپنی دفاعی صنعت بنانے کے لیے ترکی کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے دیمیر نے کہا کہ ان کوششوں کے نتیجے میں اب 1,600 مقامی دفاعی ادارے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کے لیے اصل حل ہے اپنا مقامی انجن بنانا۔ "اس عمل میں ہم ایسے اداروں اور ملکوں سے مل رہے ہیں کہ جو ہمارے ساتھ تعاون، مشترکہ پیداوار اور تیار کرنے کے لیے راضی ہیں۔”

دیمیر کو اپریل 2014ء میں SSB کا چیئرپرسن بنایا گیا تھا، جو پہلے قومی پرچم بردار ایئرلائنز ترکش ایئرلائنز کے مینٹی نینس اینڈ رپیئر یونٹ میں جنرل مینیجر تھے۔ انہوں نے گریجویشن اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں گے دوران کئی سال امریکا میں گزارے۔

اس دفاعی ادارے کا قیام 1985ء میں وزارتِ دفاع کی چھتری تلے عمل میں آیا تھا تاکہ دفاعی صنعت کا بنیادی ڈھانچہ ترتیب دیا جائے اور پالیسیوں کا نفاذ ہو۔ دسمبر 2017ء میں اسے ترک صدارت سے منسلک کر دیا گیا اور جولائی 2018ء میں اس کا نام بدل کر SSB کر دیا گیا۔

SSB جیٹ انجن بنانے والے اور ایئر کرافٹ کانٹریکٹ ترکش ایروسپیس انڈسٹریز انکارپوریٹڈ (TAI) میں بھی حصص رکھتا ہے۔ TAI ایف-35 لڑاکا طیارے کے لیے مرکزی حصے (fuselage) کے پرزے، اٹیک ہیلی کاپٹرز اور ڈرونز کے علاوہ بوئنگ
اور ایئر بس کے لیے بھی ہوائی جہازوں کے پرزے بناتا ہے۔

ترکی نے اپریل 2017ء میں امریکا سے ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد S-400 خریدنے کے لیے روس کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔ اسماعیل دیمیر نے کہا کہ "ہماری شرائط پر امریکی پیٹریاٹ سسٹم فراہم نہیں کیا جا رہا تھا اور بعد ازاں ہم نے امریکا کے علاوہ اٹلی اور فرانس سے بھی بات کی۔ سب ہونے کے بعد S-400 کے لیے بات چیت شروع ہوئی۔”

تبصرے
Loading...