امریکا دو طرفہ تعلقات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے باز آ‏ئے، ترکی

0 445

انقرہ نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات نہ اٹھائے۔ امریکا نے اگلے مہینے ترکی کو ملنے والے روسی S-400 ڈیفنس سسٹم کے حوالے سے تبصرہ کیا تھا۔

"امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے ترکی کے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کے حوالے سے جاری کردہ بیان صدر رجب طیب ایردوان اور امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جی20 میں ہونے والی ملاقات کی روح اور تاثر کے مطابق نہیں۔ ” وزارت خارجہ کے ترجمان حامی آق سوئے نے کہا۔

آق سوئے نے بتایا کہ ترکی کو ابھی تک S-400 کے حوالے سے بنائے گغے ورنگ گروپ کی تجویز کے حوالے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔

ترکی نے امریکا سے ایئرڈیفنس سسٹم خریدنے کی تمام کوششوں میں ناکام ہونے کے بعد 2017ء میں S-400 سسٹم خریدنے کا فیصلہ کیا تھا۔

S-400 روس کا جدید ترین طویل فاصلے تک مار کرنے والا اینٹی ایئرکرافٹ میزائل سسٹم ہے جو اہداف کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے تین اقسام کے میزائل لے جا سکتا ہے کہ جن میں بیلسٹک اور کروز میزائل بھی شامل ہیں۔

یہ سسٹم بیک وقت 300 اہداف کو نشانے پر لے سکتا ہے اور 27 کلومیٹر تک کی بلندی تک مار کر سکتا ہے۔

S-400 کی خریداری کے ساتھ انقرہ خطے میں پیش خطرات سے نمٹنے کے لیے پہلے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایئر اور اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم کی تیاری کا ہدف رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ ترکی اپنا میزائل ڈیفنس سسٹم بھی بنانا چاہتا ہے کیونکہ اس میں ٹیکنالوجی اور معلومات کی منتقلی بھی شامل ہے۔

S-400، جسے 2007ء میں متعارف کروایا گیا تھا، روسی میزائل سسٹمز کی نئی جنریشن ہے اور روس نے اب تک اسے صرف چین اور بھارت کو فروخت کیا ہے۔

امریکی عہدیداروں نے ترکی کو S-400 کے بجائے پیٹریاٹ میزائل سسٹم خریدنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ وہ روسی سسٹم کو نیٹو سسٹمز کے مطابق نہیں پاتا۔ ترکی نے جواب دیا کہ امریکا کی جانب سے پیٹریاٹ فروخت کرنے سے انکار ہی کی وجہ سے اس نے دوسرے ملکوں کا رخ کیا اور روس کے ساتھ ہونے والا سودا بہتر ہے کیونکہ اس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے۔

دونوں نیٹو اتحادیوں کئی مہینوں سے S-400 معاملے پر تناؤ موجود ہے کہ جس میں امریکا نے کہا ہے کہ وہ ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی فراہمی روک دے گا کہ جو ترکی خریدنے جا رہا ہے۔

امریکا کہتا ہے کہ ترکی بیک وقت S-400 اور ایف-35 نہیں رکھ سکتا ہے اور اس پروگرام میں ترک پائلٹوں کی تربیت کو بھی روک دیا ہے۔

تبصرے
Loading...