امریکہ نے شام پر میزائل کیوں برسائے؟

0 2,445

ہماری عادت ہے کہ عمل اور واقعہ کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش کرتے ہیں- یہ نہیں ہو سکے گا تو کچھ بنے بنائے خیالات میں انہیں فکس کر دیں گے- شام پر 33 امریکی میزائل کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے- تھوڑا پس منظر چیک کریں- یہی ٹرمپ تھا جس نے شام سے انخلاء کی بات کی- پھر سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی منتوں اور ریال سے یہ معاملہ دب گیا- صرف یہی نہیں بلکہ بشار الاسد کے کیمیائی حملوں کے خلاف شدید ردعمل بھی آیا-

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسد کے خلاف میزائل حملوں کے دو آرڈر دئیے- جمعرات کی شب امریکی ملٹری نے حملہ نہیں کیا- دوسرے آرڈر پر آج صبح 4 بجے میزائل فائر کئے گئے اور سیکرٹری دفاع نے کہا کہ اب بس مزید کوئی میزائل نہیں پھینکا جائے گا یہ "ون نائٹ آپریشن” تھا- بشار الاسد کو اس سے کیا نقصان ہوا ابتدائی دعوی یہی ہے کہ بشارالاسد کے 20 فیصد جنگی جہاز تباہ کر دئیے گئے ہیں- اس کی مزید تفصیلات تو شام پینا گون کی پریس کانفرنس میں آ جائیں گی لیکن بشار الاسد کی ظالمانہ حکومت قائم و دائم ہے- وہ شہروں کو ویسے ہی کھنڈرات بناتی چلی جائے گی- ہاں شاید کچھ عرصہ کیمیائی ہتھیار استعمال نہ کرے لیکن وقت آنے پر پھر کرے گی- اگر امریکہ بشار الاسد کے معاملے میں اتنا ہی سنجیدہ اور اس کے انسانیت کش حملوں پر اس قدر دل گرفتہ ہے تو عالمی فورا کی مدد سے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کی کوشش کیوں نہیں کرتا اور وہ صرف میزائل کو ہی واحد حل سمجھتا ہے تو پھر دمشق حکومت کو براہ راست نشانہ کیوں نہیں بناتا-

اصل بات یہ ہے کہ داعش کے خلاف جنگ ہی وہ آخری وجہ تھی جس کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادی شامی بحران کا حصہ تھے- داعش کا اب تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے- اس لیے ان کے پاس کوئی اور جواز نہیں کہ شام میں مزید قیام کر سکیں- امریکہ نے کرد دہشتگردوں کے ساتھ اتحاد کر کے شام میں طویل عرصہ تک رہنے کا منصوبہ بنایا لیکن ترکی نے کامیاب آپریشن سے ایک منصوبے کو کمزور کر دیا ہے-

اب ایران، روس اور ترکی کے درمیان شامی بحران پر جو بھی پیش رفت ہو رہی ہے اس میں شام میں امن بحال ہوتا نظر آتا ہے- اگرچہ اس میں مشکلات اور کئی طرح کے چیلنجز موجود ہیں لیکن وہ ایک سیاسی عمل کا روڈ میپ کا دیتا ہے- امریکہ، اس کے اتحادیوں اور خلیج کے لیے تکلیف دہ مرحلہ ہے کہ وہ اس معاملے میں کہیں موجود نہیں ہیں اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان کا خطے کے مستقبل میں نہ کوئی کردار ہے اور نہ وہ اس سے جڑے اپنے مفادات کو بچا سکتے ہیں-

ہم بھول گئے ہیں کہ گذشتہ سال بھی امریکہ نے کیمیائی حملوں کے استعمال پر میزائل فائر کئے تھے اور دعوی کیا تھا کہ بشار الاسد کا کیمیائی اسٹاک تباہ کر دیا گیا ہے- لیکن وہ پھر استعمال کیا گیا- اس لیے یہ حتمی ہے کہ امریکی میزائیل حملوں کا مقصد بشار الاسد یا روس کو "hurt” کرنا نہیں تھا- بلکہ ایک ایسی "Tension” پیدا کرنا تھی جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو شام میں مزید قیام کا جواز فراہم کر سکے-

تبصرے
Loading...