گولن دہشتگرد تنظیم سے روابط پر امریکی سفارتی اہلکار کی گرفتاری، امریکا نے ترکی کے لیے ویزا سروس معطل کردی

0 150

فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم سے روابط پر امریکی سفارتی اہلکار کی گرفتاری کے ردعمل میں امریکا نے گھنٹوں نے اندر ترکی کے لیے اپنی ویزا سروس بند کر دی۔

امریکی سفارت خانہ کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق حالیہ واقعات نے امریکی حکومت کو مجبور کیا ہے کہ وہ امریکی مشن مراکز کی سہولیات اور اہلکاروں کی حفاظت کے لئے حکومت ترکی کے عزائم کا دوبارہ جائزہ لے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ معطلی فوری طور پر لاگو ہو گی جس کا مقصد کونسلیٹ اور سفارتی عمارت میں آنے والے مہمانوں کو کم کرنا ہے۔

امریکی فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ترکی نے بھی امریکیوں کے لیے اپنی ویزا سروسز بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

واشنگٹن میں ترک سفارت خانے نے آن لائن ذریعے کو استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر پاسپورٹ کے لیے ویزا، الیکٹرانک ویزا، اور سرحدوں پر دئیے جانے والے ویزا کو تا حکم ثانی معطل کر دیا۔

میتن توپوز، استنبول کے امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والا ترک شہری ہے جسے فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم سے روابط اور جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ فتح اللہ دہشتگرد تنظیم نے 15 جولائی 2016ء میں اپنے فوجی پیروکاروں کی مدد سے رجب طیب ایردوان کا تختہ الٹنے کے لیے ناکام بغاوت کی تھی جس میں زبردست عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بغاوت میں 249 ترک باشندے شہید ہو گئے تھے جبکہ ہزاروں زخمی اور معذور ہوئے۔

چارج شیٹ کے مطابق گرفتار ہونے والے امریکی سفارتی اہلکار کے سابق پولیس آفیسرز سے بھی رابطے تھے جو مبینہ طور پر 2013ء کی بغاوت میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ سفارتی اہلکار کے فتح اللہ گولن سے منسلک عدالتی اور لا انفورسمنٹ اہلکاروں سے رابطوں کے ثبوت چارج شیٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔

چارج شیٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملزم کے سابق لیفٹیننٹ اوکتے اکایا سے بھی رابطے تھے جو 2016ء کی بغاوت کے مرکزی کرداروں میں شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...