امریکہ، ترکی کا کیسے اتحادی ہو سکتا ہے جب کہ وہ وائے پی جی کو ‘ہیرو’ کہتا ہے، اپوزیشن رہنماء

0 1,053

حال ہی میں ترک صدر رجب طیب ایردوان کی آئندہ صدارتی انتخابات میں حمایت کرنے والے اپوزیشن رہنماء اور نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے چیئرمین دولت بہچالی نے کہا ہے کہ امریکہ ترکی کے ایک دشمن کے طور پر یاد رکھا جائے گا اگر وہ ‘پی کے کے’ کی شامی شاخ ‘وائے پی جی’ کو مدد دینا بند نہیں کرتا۔

وائے پی جی جنگجوؤں کو رقہ میں داعش کے خلاف لڑنے والے "ہیرو” کہنے پر انہوں نے امریکی کمانڈر پال فنک کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کمانڈر یہ دیکھنے میں ناکام ہو گیا ہے کہ اصل میں کس نے غلطی کی ہے۔

انہوں نے کہا، "امریکہ کیسے ایک اتحادی ہو سکتا ہے جبکہ ہمارے غداروں کو ‘ہیرو’ کہیں؟ درحقیقت منبج میں امریکی اسپیشل فورس کی پیٹرولنگ ترکی کے خلاف اس کے اپنے اتحادی کی غداری ہے”-

دریائے فرات کے مغرب میں واقع شامی شہر منبج اس وقت سب سے بڑا تنازعہ بنا ہوا ہے- ترکی نے وائے پی جی کو کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ اس خطے کو چھوڑ دے جبکہ امریکہ بھی وعدہ کر چکا ہے کہ دہشتگرد شہر کو چھوڑ دیں گے-

اپوزیشن رہنماء نے کہا، "امریکہ اگر ترکی کے خلاف حملوں کی تائید نہیں بھی کرتا تو کم از کم حوصلہ ضرور دیتا ہے”-

انہوں نے مزید کہا، "ہمارا اسٹریٹجک پارٹنر، ہمارا ناٹو اتحادی اس سے پہلے بھی 15 جولائی کے ناکام بغاوت کے ذمہ دار فتح اللہ گولن دہشتگرد تنظیم کے ساتھ تعاون کرتا آ رہا ہے”-

انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی ترکی کو درپیش خطرات سے آگاہ ہے اور اس صورتحال میں ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہی ہے-

تبصرے
Loading...