امریکہ وائے پی جی مقبوضہ علاقہ منبج سے اپنے فوجی نہیں نکالے گا، اعلیٰ سطحی امریکی کمانڈر

0 1,415

امریکی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل جوزف وٹال نے کہا کہ امریکی شام کے وائے پی جی مقبوضہ علاقے منبج سے اپنے فوجی نہیں نکالے گا۔ جنرل جوزف عراق اور شام میں داعش مخالف جنگ کے کوارڈینیٹر بھی ہیں۔ ان کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ترکی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی سرحد کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کے لیے عفرین کے بعد منبج میں آپریشن کرے گا۔

سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ جنرل جوزف کے مطابق پی کے کے کی شامی شاخ وائے پی جی کے زیر قبضہ منبج سے فوجیوں کو نکالنے کے کسی منصوبہ پر امریکہ غور نہیں کر رہا۔

ترک حکام نے مسلسل کہتے آ رہے کہ آپریشن شاخِ زیتون منبج تک جاری رہے گا اور  اپنے وعدے نہ نبھانے پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ جو علاقے بھی وہ آزاد کروائے گا وہ مقامی کونسل کے زیر کنٹرول دئیے جائیں گے لیکن شمالی شام میں امریکہ کی طرف سے آزاد کردہ علاقوں کو "پی وائے ڈی/پی کے کے” کے کنٹرول میں دیا گیا۔

امریکی صدر باراک اوبامہ کی زیر قیادت سابقہ امریکی انتظامیہ نے ترکی کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وائے پی جی دریائے فرات کے مشرق کی طرف چلے جائیں گے۔ تاہم انقرہ کی طرف سے جاری واننگ کے باوجود اس وعدے پر عمل نہیں کیا گیا اور وائے پی جی فرات کے مشرق کی طرف نہیں گئے۔

وائے پی جی کا حتمی مقصد شمال مغربی عفرین کینٹون کو جزیرہ کینٹون اور کوبانی سے ملا کر شمالی شام میں ایک خود مختار خطے کا قیام ہے۔ حال میں ہی شروع ہونے والا ترکی کا آپریشن شاخ ِ زیتون اس خود مختار خطے کے قیام کے منصوبے کو الٹنا ہے۔

امریکہ کی طرف سے کئے وعدوں کی وعدہ خلافی کے نتیجے میں ترکی نے اپنی پوزیشن واضع کرتے ہوئے شمالی شام کو دہشتگردوں کو پاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں منبج بھی شامل ہے، یہ وہ خطہ ہے جہاں سے وائے پی جی/پی کے کے مسلسل ترک صوبے کلیس پر راکٹ فائرنگ اور بم دھماکے کرتی رہتی ہیں۔

تبصرے
Loading...