پاکستانی انتخابات 2018ء میں صدر ایردوان سے منسوب جھوٹی خبروں کا استعمال

0 3,640

موبائل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے دور میں جب سماج کے آراء رکھنے والے تمام لوگ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا رخ کرتے ہیں تو انہیں کئی طرح کی غیر حقیقی دنیا سے واسطہ پڑتا ہے۔ یہاں احساسات سے ماوراء ایک بستی آباد ہوتی ہے جس کے پاس فقط الفاظ ہی الفاظ ہوتے ہیں۔ یہاں دوست اور مخالف کے نہ صرف معنی بدلتے ہیں بلکہ ان کے ساتھ رکھے جانے والے رویے بھی بدل جاتے ہیں۔ صرف یہی نہیں یہاں ایک ایسا معاشرہ آپ کی سکرین پر ہوتا ہے جسے آپ نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ پہچان سکتے ہیں، نہ اس کی حقیقت معلوم کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی اس خامیوں کے بہت سے گروہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔

حال ہی میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کی مدد سے سیاست اور انتخابات پر اثر انداز ہونے کے مظاہر سامنے آئے ہیں جن میں سچ اور جھوٹ سے دور عوام الناس اور ووٹر کی آراء کو بدلا اور بنایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک بڑا واقعہ امریکی انتخابات تھے جس میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر جھوٹی خبروں کے ذریعے ٹرمپ کے لیے انتخابات کو سازگار بنایا گیا اور ووٹر کو مائل کیا گیا کہ وہ ٹرمپ کو ووٹ ڈالیں۔

اگلے ماہ پاکستان میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کا ایک نہ رکنے والا ایک سیلاب ہے جس میں ووٹر بہہ رہے ہیں اور حقیقی اور سچی دنیا سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

پاکستان میں رجب طیب ایردوان کی شہرت عرب دنیا سے کم نہیں ہے، پیو ریسرچ کے مطابق 60 فیصد عرب ترک صدر رجب طیب ایردوان کو پسند کرتے ہیں۔ پاکستان میں یہ تعداد 60 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایردوان کے درجنوں فین پیجز اور اکاؤنٹ سامنے آ چکے ہیں جن کی پسندیدگی لاکھوں اور ہزاروں میں ہے۔ کئی جگہوں پر اس پسندیدگی کو اپنی آن لائن تشہیراتی مہم میں استعمال کرتے دیکھا گیا ہے۔

 

اگرچہ ایسی تشہیرات میں کوئی منفی بات نہیں ہوتی بلکہ رجب طیب ایردوان کی تقاریر اور تحریری بیانات کی ترویج و اشاعت ہی کی جا رہی ہوتی ہے لیکن حالیہ انتخابی مہم میں ترک صدر سے جھوٹے بیانات منسوب کر کے  مخصوص پارٹیوں اور رہنماؤں کے حق یا مخالف میں ماحول بنائے جانے کا رحجان شدت اختیار کر کیا ہے۔

جیسا کہ مختلف سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے صفحات پر کچھ اس قسم کی جھوٹی خبریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ ایک جھوٹی خبر بنائی گئی کہ رجب طیب ایردوان نے عمران خان کو پاکستان کا دشمن قرار دیا ہے جبکہ دوسری جھوٹی خبر میں ترک صدر سے منسوب کیا گیا ہے کہ عمران خان پاکستان میں بے حیائی پھیلانے میں پُر عزم ہیں۔

 

اسی نوعیت کی ایک تیسری جھوٹی خبر کچھ اس طرح بنائی گئی ہے کہ عمران خان اس وقت ریاست پاکستان پر ایک عذاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک اور خبر میں صدر ایردوان سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ میں صرف مذہبی پارٹیوں کا پاکستان میں اقتدار چاہتا ہوں۔

یہ جھوٹی خبریں بڑے پیمانے پر پھیلائی جا رہی ہیں اور خود پاکستانی اپنی پسندیدگی کی بنیاد پر اپنے مخالف رہنماؤں کے خلاف رجب طیب ایردوان کے ان (جھوٹے) بیانات کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔

جہاں رجب طیب ایردوان کی شہرت کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا رجحان ہے وہیں اپنے پسندیدہ رہنماؤں کے حق میں بھی جھوٹے بیانات منسوب کئے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ ایک جگہ رجب طیب ایردوان سے منسوب کیا گیا ہے کہ وہ عمران خان کو افطاری کے لیے ٹیلی فون کر رہے ہیں۔ اور ان کی کرپشن کے خلاف قربانیوں کی تعریف کر رہے ہیں۔ اسے 21 ہزار لوگوں نے شیئر کیا ہے۔

اسی طرح کی ایک جھوٹی خبر یہ بنائی گئی ہے رجب طیب ایردوان نے پاکستانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ عمران خان کو کامیاب کریں کیونکہ وہ اور عمران خان مل کر دنیا بھر کے مسلمانوں کو ظلم سے آزاد کروائیں گے۔ جھوٹ کے ٹکڑے کو 53 ہزار لوگوں سے شیئر کیا ہے۔

رجب طیب ایردوان پاکستان اور پاکستانی عوام کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ترکی میں پاکستانیوں کے لیے کاردش کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے بھائی۔ کیونکہ ترک سمجھتے ہیں کہ ریاست عثمانیہ کے زوال کے وقت جب سارا عرب لارنس آف عربیہ کا اسیر ہو گیا تھا تب یہ پاکستانی اور ہندوستانی مسلمان ہی تھے جنہوں نے ترک ملت نہ صرف مالی بلکہ جانی مدد بھی کی۔ ایسے کٹھن مواقع پر سچے بھائی ہی ساتھ ہوتے ہیں اس لیے وہ پاکستانیوں کے لیے کاردش کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان میں ہونے والے انتخابات پاکستان کا انتہائی اندرونی معاملہ ہے۔ اگرچہ ترک صدر ایردوان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام میں جمہوریت اور عوامی رائے کی بالادستی کے خواہاں ہیں۔ یہی وجہ ہے مصر میں ایک منتخب حکومت پر فوجی شب خون پر انہوں نے سخت ردعمل دیا تھا۔ یہ بھی صدر ایردوان کی خواہش ہے کہ مسلمان ممالک میں عقل مند قیادتیں اور ایسے رہنماء اقتدار میں آئیں جو ان کی قوت میں اضافے کا باعث بنیں اور مسلمانوں کے مسائل میں کھل کر ساتھ کھڑے ہوں لیکن انہوں نے کبھی بھی کسی دوسرے ملک کی عوام کو کسی مخصوص رہنماء یا پارٹی کی طرف کسی قسم کی رغبت نہیں دلائی۔ لہذا ان سے منسوب نہ صرف یہ تمام خبریں جھوٹی ہیں بلکہ آنے والے دنوں میں آپ کے سامنے آنے والی کوئی بھی اس قسم کی خبر جھوٹی ہو گی۔

 

تبصرے
Loading...