ازبکستان، مذہبی آزادی کا نیا قانون، حجاب پر پابندی ختم

0 1,071

وسطی ایشیا کے ملک ازبکستان نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت ملک میں مذہبی آزادی کو فروغ ملے گا۔

ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق صدر شوکت میرزائیف کے دستخط کے ساتھ یہ قانون لاگو ہو چکا ہے۔

اس نئے قانون کے تحت ملک میں مذہبی اداروں اور تنظیموں کی سرکاری رجسٹریشن کے عمل کو سادہ بنایا گیا ہے۔ قانون کے تحت مذہبی اداروں یا انجمنوں کے قیام کے لیے مقامی سردار کی منظوری لازمی ہونے کی شرط کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اب اس کے قیام کے لیے دستخطوں کی تعداد 100 سے گھٹا کر 50 ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ مذہبی لباس پر بھی پابندی ختم کر دی گئی ہے، جس میں اسکارف بھی شامل ہے۔

یہ قانون ریاست کے متعلقہ امور اور مذہب کے حوالے سے قانون کو ایک ضابطے میں لاتا ہے، کیونکہ ریاست ملک میں تمام مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی پُر امن بقائے باہمی کے لیے کام کر رہی ہے اور اس کی ضمانت دیتی ہے۔

تبصرے
Loading...