عدنان میندریس کی پھانسی کو 58 سال گزر گئے

0 585

اس دن کو 58 سال گزر گئے کہ جس روز عدنان میندریس کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ "اللہ ہماری قوم کی حفاظت کرے،” یہ ان کے آخری الفاظ تھے۔ ترکی کے پہلے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے وزیر اعظم ملک میں فوجی بغاوت کا پہلا بڑا شکار بھی بنے۔

استنبول کے توپ قاپی ضلع میں واقع اس مقبول سیاست دان کی آخری آرام گاہ پر ایک تقریب کا انعقاد ہوا کہ جس میں وزیر داخلہ سلیمان سوئلو سمیت معروف شخصیات نے شرکت کی۔ میندریس کو فطین رشدی زورلو اور حسن پولاتکان کے ساتھ دفن کیا گیا تھا کہ جو ان کی کابینہ کے دو وزیر تھے اور 1961ء میں ان کے ساتھ ہی پھانسی چڑھا دیے گئے تھے۔

سلیمان سوئلو نے کہا کہ "1960ء کی فوجی بغاوت اور ان کی پھانسی ترکی کی سیاسی تاریخ کے ان واقعات میں ایک ہے جنہیں سب سے زیادہ چھپایا جاتا ہے۔ نہ ہی اس پر کسی نے معافی مانگی اور ایسا کرنے والوں کو کوئی سزا بھی نہیں ملی۔ یہ ایک الم ناک سانحہ ہے اور ایک غیر انسانی حرکت بھی۔” انہوں نے کہا کہ ترکی نے جمہوری تاریخ کی پہلی فوجی بغاوت سے سبق نہ سیکھا بلکہ کچھ عرصے تک تو اس دن کو یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا تھا۔ "یہی وجہ ہے کہ ہم نے آئندہ سالوں میں کئی فوجی بغاوتیں دیکھیں۔”

اس واقعے سے ترک فوج کو مزید تحریک ملی۔ میندریس کی پھانسی کے 10 سال بعد جرنیلوں نے وزیر اعظم سلیمان دیمیرل کو استعفے پر مجبور کیا۔ 1980ء میں جب ملک افراتفری کے عالم میں تھا، بائیں اور دائیں بازو کی کشمکش نے فوج کو ایک مرتبہ پھر موقع دیا کہ وہ ملک پر قبضہ کرلے۔ ایک اور بغاوت 1997ء میں ہوئی لیکن 2016ء وہ پہلا موقع تھا جب ترکی متحد ہوکر ایسی بغاوت کے سامنے کھڑا ہو گیا اور فوج میں موجود گولن ٹیرر گروپ (FETO) کے عناصر کی کوشش ناکام بنا دی۔

1899ء میں ترکی کے مغربی صوبے آئیدین میں پیدا ہونے والے میندریس ازمیر کے امریکن کالج سے تعلیم یافتہ تھے۔ ترک جنگ آزادی کے دوران 1919ء سے 1923ء تک وہ حملہ آور یونانیوں کے خلاف لڑے اور اپنی بہادری پر انہیں میڈل آف آنر سے بھی نوازا گیا تھا۔

1930ء میں انقرہ یونیورسٹی لا اسکول سے گریجویشن کے بعد انہوں نے لبرل ری پبلکن پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ مصطفیٰ کمال اتاترک کی ذاتی دعوت پر 1931ء میں انہوں نے جمہور خلق پارٹی (CHP) جوائن کرلی اور آئیدین سے پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوگئے۔

1945ء میں غیر جمہوری قوانین کی مخالفت پر عدنان میندریس کو جلال بایار، رفیق کورلاتان اور فواد کوپریلی سمیت پارٹی سے نکال دیا گیا ۔ ایک سال بعد میندریس اور جلال بایار نے ڈیموکریٹ پارٹی (DP) بنائی۔

14 مئی 1950ء کو ان کی سیاسی جماعت 53 فیصد ووٹ اور پارلیمنٹ کی 487 میں سے 408 نشستیں جیت کر عام انتخابات میں سرفہرست آئی۔ 1960ء میں فوجی بغاوت تک DP نے کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھا، اور CHP کے خلاف مسلسل تین انتخابات جیتے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ترکی میں آنے والی کئی تبدیلیوں کے پیچھے میندریس حکومت کا ہاتھ تھا لیکن عدنان کو یاد رکھا جاتا ہے اذان پر عائد پابندی اٹھانے کی وجہ سے۔

وزیر اعظم کی حیثیت سے میندریس نے عربی میں اذان دینے پر عائد پابندی کا خاتمہ کیا۔ 1932ء میں ترک جمہوری دور کے ابتدائی ایام میں وزارت مذہبی امور نے اذان ترکی زبان میں دینے کا حکم دیا تھا۔ DP نے یہ قانون بھی منظور کیا جس میں مذہبی تعلیم کی اجازت دے دی گئی کہ جو تعلیم کی سیکولرائزیشن کے نام پر ختم کردی گئی تھی۔

عدنان میندریس قومی معیشت میں لبرل پالیسی اختیار کی۔ انہوں نے درآمدات پر عائد پابندی اٹھائی، شرحِ سود کو کم کیا اور قرضے لینے کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزآئی کی اور ان قرضوں کو زراعت کے شعبے میں استعمال کرنے کی تجویز دی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا کے مارشل پلان کے طور پر نئی صنعتی تنصیبات ملک میں قائم ہوئیں۔ اس وقت ملک کی قومی پیداوار میں اوسط اضافہ 9 فیصد سالانہ تھا۔

1957ء کے عام انتخابات فوجی بغاوت سے پہلے ہونے والے آخری انتخابات تھے کہ جن میں DP نے 47.8 فیصد ووٹ حاصل کرکے 610 میں سے 424 نشستیں حاصل کیں جبکہ CHP صرف 178 نشستیں حاصل کر پائی۔

میندریس کو 1960ء میں جیل بھیجا گیا اور ان کا تختہ الٹنے والی فوجی حکومت نے ان پر مقدمہ چلایا۔ انہیں 27 مئی 1960ء کو فوجی بغاوت کے بعد DP کے تقریباً تمام ہی اراکین اور اہم شخصیات کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

ان پر استنبول کے جنوب مشرق میں بحیرۂ مرمرہ میں واقع ایک جزیرے فوجی عدالت میں مقدمہ چلا جس میں انہیں آئین کی خلاف ورزی کا مجرم قرار دیا گیا اور ساتھ ہی قومی خزانے کو لوٹنے کا الزام بھی لگایا گیا ۔ ایک سال تک چلنے والے اس مقدمے کو ترکی کی عدالتی تاریخ کا بدترین مقدمہ قرار دیا جاتا ہے کہ جس کے بعد میندریس کو ساتھیوں سمیت پھانسی دے دی گئی۔

1990ء میں ترک حکومت نے اس پھانسی پر افسوس کا اظہار کیا اور استنبول میں ان کی قبر کو مزار کی صورت دی۔ فوجی بغاوت میں اپنی جان دینے والے آخری ترک سیاسی رہنما کی حیثیت سے میندریس کا نام آج ملک میں جگہ جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔

تبصرے
Loading...