ترک جمہوریت کو پہنچنے والا پہلا دھچکا، 1960ء کی بغاوت کے شہداء کی یاد میں

0 2,121

تین سال پہلے کی حالیہ بغاوت کے مقابلے یہ زیادہ معروف تو نہیں لیکن سرگرمِ عمل افراد اور سیاست دانوں نے سوموار کو 1960ء کی بغاوت کے شہداء کو یاد ضرور کیا۔ وہ بغاوت کہ جس نے 59 سال پہلے عدنان میندریس کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا اور جمہوریہ ترکی میں جمہوریت کو پہنچنے والا پہلا خطرناک دھچکا تھا۔

برسرِ اقتدار انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی)، جو ترقی کے لیے وزیر اعظم عدنان میندریس کے نقشِ قدم کی پیروی پر فخر کرتی ہے، نے ملک بھر میں تقریبات کا انعقاد کیا، جبکہ پارٹی کے اراکین نے عدنان میندریس اور ان کے ساتھ تختہ دار پر جھولنے والے دو وزراء کی قبروں کی زیارت کی۔ ڈیموکریٹ پارٹی (DP)، جو میندریس کی بنائی گئی پارٹی کی روحانی جانشین ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، نے بھی عدنان میندریس، ان کے وزیر خزانہ حسن پولاتکان اور وزیر خارجہ فطین رشدی زورلو کی قبروں پر پھول چڑھائے۔

اتوار کو صدر رجب طیب ایردوان نے یاشیادا کا دورہ کیا کہ جہاں میندریس اور ان کی DP کے سینئر عہدیداروں پر باغیوں نے مہینوں تک مقدمات چلائے۔ صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے اس موقع پر ایک آن لائن پیغام جاری کیا۔ "جو عوام کی خواہشات سے صرفِ نظر کرتے ہیں بالآخر شکست اُن کا مقدر بنتی ہے۔ جبکہ میندریس، پولاتکان اور زورلو عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔” قالین نے کہا۔ ترجمان نے کہا کہ 1960ء کی بغاوت نے جدیدیت کی جانب گمراہ کن دوڑ اور جمہوریت کے لیے عوام کی جدوجہد کے بارے میں "بہت کچھ بتایا” ۔

27 مئی 1960ء کو نسبتاً کم رینک کے 37 افسران نے میندریس حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے فوجی بغاوت کی،جو 1950ء کی دہائی سے سر برسرِ اقتدار تھے۔ ان کی حکومت پر ترکی کو ظلم و جبر کی ریاست بنانے اور اسے سیاسی افراتفری کے راستے پر چلانے کا الزام لگایا۔

DP ترک جمہوری تاریخ میں انتخابات جیت کر جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والی پہلی جماعت تھی۔ ترک جمہوریہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی بنائی گئی جمہور خلق پارٹی (CHP) نے 1923ء سے 1950ء تک ملک پر حکومت کی۔ DP نے نصف سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے 1950ء کے انتخابات جیتے۔اس کی سماجی و اقتصادی پالیسیوں نے پارٹی کا 1954ء اور 1957ء کے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کرنا ممکن بنایا۔ تاہم حکومت مخالف مظاہرے زور پکڑتے گئے اور جامعات میں طلبہ مظاہرے مارشل لاء کے اعلان پر منتج ہوئے۔ حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت CHP، جس کی قیادت ملک کے دوسرے صدر عصمت انونو کر رہے تھے حکومت کی سخت ناقد تھی اور CHP کی نمایاں ریلیوں نے CHP اور DP کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھایا۔ CHP پر میندریس حکومت کی مبینہ "آمریت” کے خلاف عوام کو اُکسانے کی ترغیب دینے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

21 مئی 1960ء کو ترک آرمڈ فورسز وار اکیڈمی کے کیڈٹس کا ایک گروپ سڑکوں پر تھا، جس کو آنے والی بغاوت کی پہلی نشانی سمجھا گیا۔ کیڈٹس کے "خاموش مارچ” کے چھ روز بعد درمیانے رینک کے فوجی افسران کا ایک گروپ جو خود کو نیشنل یونٹی کمیٹی کہتا تھا، نے بغاوت کا اعلان کردیا اور حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے پارلیمنٹ تحلیل کردی۔

چیف آف جنرل اسٹاف کی گرفتاری کے باوجود بغاوت کی سازش رچانے والوں کو جرنیلوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا رہا،جن میں سے ایک نے یہ اعلان تک کر ڈالا کہ اگر قیادت سینئر فوجی عہدیداران کو نہ سونپی گئی تو وہ فوج کے ساتھ انقرہ پہنچ کر سازشیوں کو گرفتار کرلیں گے۔ نتیجتاً ریٹائرڈ جنرل جمال گرسل کو باغی حکومت کا سربراہ بنایا گیا، جس کے بعد فوج اور عدلیہ کو قابو کرنے کے لیے 235 جرنیلوں، نچلے رینک کے 3,500 افسران اور 520 ججوں اور پراسیکیوٹرز کی ریٹائرمنٹ عمل میں آئی۔ میندریس حکومت کے تمام سرکاری عہدیدار گرفتار کرلیے گئے۔ ریڈیو پر بغاوت کا اعلان کچھ یوں کیا گیا، "جمہوری بحران اور عوامی بے چینی نے ترک مسلح افواج کو ملک کا اقتدار سنبھالنے پر مجبور کیا کیونکہ ایک ممکنہ خانہ جنگی کا خطرہ تھا۔”

کئی لوگوں کی نظر میں اس بغاوت کے ساتھ ہی ترک تاریخ کے سیاہ ترین ایام کا آغاز ہوا۔ میندریس، ملک کے پہلے جمہوری طور پر منتخب ہونے والے وزیر اعظم، اور ان کے وزراء زورلو اور پولاتکان کو بدنام زمانہ یاشادا مقدمات کے بعد ستمبر 1961ء میں پھانسی دے دی گئی۔ صدر جلال بایار، DP قانون ساز، چیف آف اسٹاف رشدی اردالہون اور بغاوت کی مخالفت کرنے والے چند سرفہرست فوجی افسران کو بھی گرفتار کیا گیا۔

پارلیمنٹ نے 1990ء میں ایک قانون منظور کیا جس نے شہداء کا وقار بحال کیا اور ایک جزیرے پر مدفون اُن کے جسد خاکی استنبول میں ایک یادگار میں منتقل کرنے کو یقینی بنایا گیا۔

تبصرے
Loading...