حفتر کے خلاف حالیہ کامیابی لیبیا کی مکمل آزادی کا آغاز ہوگا، حکومتِ لیبیا

0 176

لیبیا کی افواج کی حالیہ عسکری کامیابی باغی کمانڈر خلیفہ حفتر کے خلاف ملک کی مکمل آزادی کا آغاز ہوگا۔ یہ بات لیبیا ایک اہم عہدیدار نےاس وقت کہی جب وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ لیبیا حفتر کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھائے گا۔

لیبیا کے پبلک پالیسی اسسٹنس آفس کے ڈائریکٹر محمد درعت نے کہا ہے کہ الوطیہ ایئربیس کو باغی عناصر سے پاک کرنا ایک عسکری کامیابی اور حفتر کے "باغیانہ منصوبوں” کی شکست ہے۔

درعت نے کہا کہ لیبیا کے سرکاری ادارے ترکی جیسے اتحادی ممالک کی مدد سے مضبوط کیے جائیں گے۔

لیبیا کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے الوطیہ ایئربیس کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جو تقریباً چھ سالوں سے خلیفہ حفتر کی فوجوں کے قبضے میں تھی۔

انہوں نے بتایا کہ مغربی لیبیا میں اپنے گڑھ میں شکست کے بعد حفتر کی افواج طرابلس کے مختلف حصوں سے نکل گئی ہیں، جو دارالحکومت پر قبضہ کرنے کی ان کی کوششوں کو لگنے والا ایک بڑا دھچکا ہے۔

لیبیا کی سرکاری فوج نے تونس کی سرحد کے قریب واقع دو قصبوں کو چھڑا لیا ہے جو جنگجو حفتر کی ملیشیا کے پاس تھے۔ بدر اور تیج نامی ان قصبوں میں سرکاری افواج کی آمد کا عوام کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔

لیبیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد القبلاوی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت متحدہ عرب امارات کی لیبیا کے شہریوں کے قتلِ عام میں شمولیت اور بین الاقوامی قواعد کی خلاف ورزیوں کا ثبوت رکھتی ہے۔ ہم سلامتی کونسل کو بتائیں گے جو کچھ انہوں نے الوطیہ ایئربیس میں بطور ثبوت حاصل کیا ہے۔ یہ لیبیا کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندی کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر روسی کا Pantsir میزائل سسٹم کہ جو ابوظہبی نے فراہم کیا۔

لیبیا کی حکومت اپریل 2019ء سے خلیفہ حفتر کے حملوں کی زد میں ہے۔ دارالحکومت پر بڑھتے حملوں کے خلاف آپریشن پِیس اسٹورم کا آغاز کیا گیا۔

2011ء میں معمر قذافی کا تختہ الٹ جانے کے بعد لیبیا میں 2015ء میں اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی ایک حکومت (GNA) کا قیام عمل میں آیا۔ اپریل 2019ء سے اب تک اس حکومت کو مشرقی لیبیامیں موجود خلیفہ حفتر کے حملوں کا سامنا ہے۔ پرتشدد کارروائیوں میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ پچھلے چند ہفتوں میں GNA نے جنگجو افواج کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، حالانکہ ان کو روس کے علاوہ، فرانس، متحدہ عرب امارات اور مصر کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ حفتر کی جانب سے شہریوں، ہسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری کے بعد چند صوبوں نے مرکزی حکومت کی تائید کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

تبصرے
Loading...