انقرہ میں کشمیریوں کے حق میں زبردست مظاہرہ

0 997

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت کے خاتمے اور بھارتی افواج کی جانب سے کشمیریوں پر ظلم و تشدد کا نیا سلسلہ شروع کرنے کی مذمت کرتے ہوئے ترکوں نے ایک مرتبہ پھر کشمیریوں کی علانیہ حمایت کردی ہے۔ انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے منعقدہ ایک مظاہروں میں ترک شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مسئلہ کشمیر پر اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ مظاہرہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اور کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ‘یومِ سیاہ’ کا حصہ تھا۔

اس موقع پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ترکی کے لیے پاکستان کے سفیر محمد سائرس سجاد قاضی کشمیریوں کے ان مصائب اور مشکلات کو سامنے لائے جو انہیں بھارت کے حالیہ غیر قانونی اقدامات اور اس کے بعد لاک ڈاؤن کی وجہ سے اٹھانا پڑ رہی ہیں۔ یہ اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سات دہائیوں تک کشمیریوں کو ان کے حقِ خود ارادی کے مطالبات پر سزا دی اور اب حالیہ اقدامات کے بعد تو بھارت ایک استعماری طاقت بن چکا ہے۔

پاکستانی سفیر نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی نسل کشی پر خاموش نہ رہے۔ کشمیر میں بوسنیا کے بدنامِ زمانہ سانحہ سربرینیکا جیسی صورتحال جنم لینے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے سجاد قاضی نے کہا کہ عالمی برادری ایسی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے میں مدد کے لیے اقدامات اٹھائے اور ساتھ ہی بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپنے غیر قانونی اقدامات واپس لے اور ساتھ ہی کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ، پُرامن اور دیرپا حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ سفیر نے ترکی کے عوام اور حکومت کی جانب سے کشمیر کی دیرپا حمایت پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔

شرکاء نے کشمیری شہداء کی یاد میں چراغ روشن کیے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کے ساتھ یہ مظاہرہ اپنے اختتام کو پہنچا۔

قبل ازیں پاکستان ہاؤس، انقرہ میں شہدائے کشمیر اور بھارت کی قابض افواج کے خلاف جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام بھی کیا گیا۔

تبصرے
Loading...