کروناوائرس لاک ڈاؤن سے پریشان بلّیوں کو کھلانے والا ایک عظیم ترک

0 284

کروناوائرس کی وجہ سے دنیا بھر کی طرح ترکی کے شہروں اور دیہات کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں اور اس کے اثرات محض انسانوں پر ہی نہیں بلکہ جانوروں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ وہ آوارہ بلّیاں کہ جن کو انسانوں سے ہی خوراک ملتی تھی، اب بھوک اور پیاس کی وجہ سے پریشان ہیں۔ یہی وجہ مغربی صوبہ بولو میں ایک گاؤں کے سربراہ نے خود کو آوارہ بلّیوں کے لیے وقف کر دی اہے۔ چنگیز آئیدوغان بولو قاراچایر علاقے کے سربراہ ہیں، جنہوں نے دیکھا کہ وبائی مرض کی وجہ سے عوامی نقل و حرکت کم ہو گئی ہے اور ساتھ ساتھ سڑکوں پر جانوروں کے کھانے پینے کی اشیاء میں بھی کمی آ گئی ہے۔ اسی لیے آئیدوغان ماسک پہن کر اور دیگر حفاظتی اقدامات اٹھا کر گھر سے نکلتے ہیں اور مقامی آبادی اور بلدیہ کی مدد سے حاصل کی گئی خوراک کو بلّیوں کے لیے مختلف مقامات پر رکھتے ہیں۔

آئیدوغان کا کہنا ہے کہ وہ جانوروں کے لیے ہر قدم اٹھائیں گے کیونکہ مقامی آبادی اب ان کی خوراک کا انتظام کرنے کے قابل نہیں کیونکہ وہ اپنے گھروں میں ہے۔ اس لیے میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں کہ ان بلّیوں کی ضروریات پوری کروں۔

جانوروں کا خیال رکھنا ترک ثقافت کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی بلدیات اور وزارتیں تک کروناوائرس کی عالمگیر وبا کی وجہ سے ان جانوروں بالخصوص کتوں اور بلّیوں کو ملنے والی خوراک میں کمی کو پورا کرنے کی وجہ کوششیں کر رہی ہیں۔

پچھلے ہفتے وزارت داخلہ نے آوارہ جانوروں کی حفاظت اور ان کو خوراک کے حوالے سے ایک اعلان کیا تھا، جس میں مقامی انتظامیہ پر زور دیا گیا تھا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر مخصوص مقامات پر خوراک کا ذخیرہ چھوڑیں تاکہ یہ جانور بھوک پیاس سے دوچار نہ ہوں۔

کئی بلدیات اس اعلان سے پہلے ہی جانوروں کو بھوک اور پیاس سے بچانے کے لیے خوراک اور پانی فراہم کرنا شروع ہو چکی تھیں۔ مقامی بلدیات کی جانب سے آوارہ جانوروں کی ویکسینیشن بھی کی جاتی ہے۔

تبصرے
Loading...