واشنگٹن پوسٹ نے بغدادی کو "مذہبی عالم” کہہ ڈالا، بعد میں سرخی تبدیل کردی

0 204

واشنگٹن پوسٹ کے ایڈیٹرز کو اتوار کو اُس وقت سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے دہشت گرد گروپ داعش کے رہنما ابو بکر بغدادی کی موت پر شائع ہونے والی خبر میں غلط سرخی لگا دی۔ انہوں نے بغدادی کو "سخت گیر مذہبی عالم” لکھا کہ جس پر انہیں قارئین کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔

اخبار میں شائع ہونے والی پہلی سرخی تھی "ابو بکر بغدادی، دولتِ اسلامیہ کے ‘دہشت گرد سربراہ’ 48 سال کی عمر میں مارے گئے،” یعنی دہشت گرد گروپ کو وہی نام دیا جو وہ خود کو دیتا ہے حالانکہ ان کے ہیبت ناک اقدامات اسلامی عقائد کے بالکل خلاف ہیں۔

بعد ازاں اس سرخی کو تبدیل کرکے مزید ناگوار بنا دیا گیا: ” دولتِ اسلامیہ کے سخت گیر مذہبی عالم ابو بکر بغدادی 48 سال کی عمر میں مارے گئے۔”

اس سرخی کو قارئین کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سے ایک نے اخبار کو یہ حقیقت بتائی کہ "وہ عادی زناکار اور قاتل تھا۔”

سخت تنقید کے بعد اخبار نے بالآخر سرخی کو پھر تبدیل کیا کہ "دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند رہنما ابو بکر بغدادی 48 سال کی عمر میں مارے گئے۔”

واشنگٹن پوسٹ کی نائب صدر کرسٹین کوریٹی کیلی نے سرخیوں میں آنے والی ان تبدیلیوں کے حوالے سے ٹوئٹر پر وضاحت کی۔ "بغدادی کے مارے جانے پر شائع ہونے والی سرخی ہرگز ایسی نہیں ہونی چاہیے تھی اور ہم نے اسے فوری طور پر تبدیل کردیا۔”

داعش کے رہنما بغدادی شام میں ایک امریکی فوجی آپریشن میں مارے گئے، جس کا اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے ڈپلومیٹک روم سے قوم کے نام سے ایک بیان میں کہا کہ "بغدادی مارا گیا۔” یوں سکیورٹی کے حوالے سے اپنی اولین قومی ترجیح حاصل کی۔

ٹرمپ نے کہا کہ بغدادی امریکی فوج کے تعاقب کے بعد بھاگ کر تین بچوں کے ساتھ ایک سرنگ میں بند ہو گیا اور اپنی خودکش جیکٹ اڑا ڈالی۔ "وہ بیمار ذہنیت کا حامل اور بدچلن شخص تھا اور اب اس کا خاتمہ ہو چکا ہے،” ٹرمپ نے کہا۔ "وہ کتے کی موت مرا ہے، ایک بزدل کی موت۔”

دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کارروائی میں حصہ لینے والے فوجی ترکی کے جنوبی شہر ادانہ کی انجرلک ایئربیس سے گئے تھے۔

ترک وزارت دفاع نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "گزشتہ شام شام کے صوبہ ادلب میں امریکی آپریشن سے قبل دونوں ملکوں کے مابین معلومات کا تبادلہ اور تعاون کیا گیا،” جس سے ان دعووں کو تصدیق ملتی ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بغدادی کی موت کی خبر کا خیر مقدم کیا گیا۔

"داعش، PKK/YPG اور دیگر دہشت گرد تنظیموں سے لڑائی کی سب سے بھاری قیمت ادا کرنے والے کی حیثیت سے ترکی اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اتحاد کی روح کے مطابق دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد پوری انسانیت کے لیے امن لائے گی،” انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا۔

انہوں نے کہا کہ بغدادی کا مارا جانا "دہشت گردی کے خلاف ہماری مشترکہ جنگ میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ ترکی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو سپورٹ کرنا جاری رکھے گا – جیسا کہ وہ ماضی میں کرتا رہا ہے۔”

تبصرے
Loading...