ہم اپنے قومی مفادات کے مطابق سب کے ساتھ باہمی احترام اور مفاد کی بنیاد پر جامع تعلقات چاہتے ہیں، صدارتی ترجمان

0 462

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے کہا کہ ” ہم اپنے قومی مفادات کے مطابق سب کے ساتھ باہمی احترام اور مفاد کی بنیاد پر جامع تعلقات چاہتے ہیں اور اس ضمن میں سکیورٹی کے معاملے پر جامع اپروچ لیں گے۔”

صدارتی ترجمان ابراہیم قالین نے صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایوانِ صدر میں پریس کانفرنس میں بیان دیا اور صحافیوں کے سوالوں کے جوابات دیے۔

کانفرنس کی براہ راست نشریات میں صدارتی ترجمان ابراہیم ے کہا کہ "اجلاس میں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے ان مسائل کو نمایاں کیا جو شہریوں کی بہتر خدمات کے لیے حکومت کے صدارتی نظام کے لیے اہم ہیں اور شہریوں کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی توجہ دلائی۔

"PKK کے دہشت گردوں کے خلاف ہر علاقے میں ہماری جنگ جاری رہے گی”

زور دیا گیا کہ ہمارے متعلقہ یونٹس وقتاً فوقتاً معیشت میں درپیش آنے والی پریشان کن حرکات کے خلاف ضروری اقدامات جاری رکھیں گے۔ اس کی خاص طور پر نشاندہی کی گئی کہ ریاستی اداروں اور نجی شعبے کے متعلقہ یونٹس دباؤ کے ماحول کے خلاف مشترکہ کوششیں جاری رکھیں جس کی غیر ملکی زرِ مبادلہ، افراطِ زر اور شرحِ سود کے ذریعے تخلیق کی جائے گی۔

معیشت اور عام سیاسی ڈھانچے کے علاوہ S-400، F35 اور امریکا کے ساتھ تعلقات کے معاملات بھی اجلاس کے دوران سامنے آئے۔ میں ان پر بھی کچھ تبصرہ کروں گا۔

صدر مملکت نے دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی میں بہتر قدر کی حامل پیداوار کے لیے کوششیں بڑھانے کی ہدایت کی۔ اس ضمن میں ہم اگلے کچھ عرصے میں اقدامات جاری رکھیں گے تاکہ اپنی برآمدی صلاحیت میں اضافہ کریں۔

اسی طرح ترکی کی داخلی و خارجی سالمیت کے کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اداروں کے درمیان رابطے کا بھی اجلاس میں جامع جائزہ لیا گیا۔ PKK دہشت گرد تنظیم کے خلاف ہماری جنگ ہر شعبے میں جاری ہے جس میں ہمارا عزم صرف اپنے ملک تک نہیں بلکہ عراق اور شام میں ان جگہوں کے لیے بھی ہے جو جہاں یہ تنظیم موجودگی رکھتی ہے۔ وزارت قومی دفاع، وزارت داخلہ، نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن، ژیندرمیری اور دیگر متعلقہ سکیورٹی یونٹس نمایاں نتائج حاصل کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

دہشت گرد تنظیم کی جانب سے 31 مارچ کو ہونے والے مقامی انتخابات کے دوران اشتعال پیدا کرنے اور 23 جون کو طے شدہ استنبول کے آئندہ میئر انتخابات کی حرکیات پر اثر انداز ہونے کے لیے دہشت گردی کی چند سرگرمیوں اور حملوں کے خدشے کے پیش نظر ہمارے یونٹس چوکس ہوکر نگرانی کر رہے ہیں۔

"ادلب میں سرگرمیاں ترکی کے لیے اب بھی تشویش کا باعث ہیں”

جناب صدر نے اپنے افتتاحی خطاب میں شام سے پیدا ہونے والے مسائل کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ہم نے ادلب میں ہونے والی سرگرمیوں پر بالخصوص زور دیا جو ہمارے لیے بدستور تشویش کا باعث ہیں۔ شامی حکومت کی جانب سے ترکی کو مشتعل کرنے اور خطے میں قدم جمانے کے لیے جان بوجھ کر کیے گئے ایسے حملوں کے خاتمے کے لیے ہمارے متعلقہ یونٹس کو اجازت دے دی گئی ہے۔ روس سے اس مسئلے کے حوالے سے خصوصی طور پر رابطہ کیا گیا ہے اور مذاکرات جاری ہیں۔ آئندہ دنوں میں ملک کی بیرونی خطرات سے حفاظت کے لیے ادلب اور تل رفعت کے علاوہ دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں بھی ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

"ترکی امن اور باہمی احترام پر مبنی خارجہ پالیسی رکھتا ہے”

کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں مشرقی بحیرۂ روم، شمالی افریقہ و مشرق وسطیٰ میں جاری حالات پر خارجہ پالیسی پر غور و فکر بھی شامل تھا۔ وزارت قومی دفاع، وزارت قومی تعلیم اور وزیر امورِ خارجہ نے اپنے موضوعات پر معمول کی پریزنٹیشنز پیش کیں۔

بلاشبہ کابینہ اجلاس کے ایجنڈے پر موجود اہم ترین چیز ہمارے گرد و پیش کے حالات تھے۔ مجھے معلوم ہے کہ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ہماری وزارت قومی دفاع کو لکھے گئے خط کے حوالے سے بہت بحث چل رہی ہے۔

سب سے پہلے ہم یہاں زور دینا چاہیں گے کہ علاقائی اور عالمی غیر یقینی، افراتفری اور تناؤ کے ماحول میں، اور ماحول کو گرمادینے والی سیاسی اپروچ کے پس منظر میں، ترکی امن، استحکام، وقار اور باہمی احترام پر مبنی خارجہ پالیسی کی پیروی کرتا ہے۔ قدم اٹھاتے ہوئے ہم ایسی دنیا میں اپنے قومی مفادات پر مبنی خارجہ پالیسی چلاتے ہیں جہاں ہر چیز ایک دوسرے سے باہم ملی ہوئی ہے اور تمام حرکیات ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں پیش آنے والے واقعات کو ہم 360 درجے کے تناظر سے دیکھتے ہیں۔ اسی لیے یورپی یونین اور وسیع لحاظ سے یورپ، امریکا، اور روس اور چین جیسے عالمی کرداروں، مشرق وسطیٰ کے ممالک، مسلم ممالک، اور افریقی، مشرقِ بعید، ایشیائی اور لاطینی امریکا کے ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات zero sum فارن پالیسی تناظر میں نہیں ہیں۔ اس کے برعکس ہم نے کبھی کسی کے ساتھ تعلقات کو دوسرے کا متبادل نہیں سمجھا۔ یورپ اور امریکا کے ساتھ بنائے گئے اچھے تعلقات، میرا مطلب ہے بین الاوقیانوسی اتحاد کے ساتھ بنائے گئے اچھے تعلقات، کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسے روس، چین، مشرق وسطیٰ یا افریقہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اسی لیے ان خطوں میں نئے کام یا نئے منصوبوں کا امریکا، یورپ اور دیگر علاقوں کے ساتھ ہمارے تعلقات پر سایہ پڑنا ضروری نہیں۔ پھر بھی جو خارجہ تعلقات کا اس طرح جائزہ لیتے ہیں اور وقتاً فوقتاً نیٹو میں ترکی کی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہیں اور دعویٰ ہے کہ ترکی روایتی اتحاد کے نظاموں کو چھوڑا اور دیگر علاقوں کا رخ کیا۔ البتہ ہم باہمی احترام اور اپنے قومی مفادات کے اندر رہتے ہوئے ہر کسی کے ساتھ جامع تعلقات کا ہدف رکھتے ہیں اور اس ضمن میں سکیورٹی کے معاملات پر ایک جامع اپروچ رکھتے ہیں۔

S-400، پیٹریاٹس، F-35 ۔۔۔۔ یہ اقدامات ترکی کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ کیونکہ ہم سکیورٹی کے معاملے پر ایک جامع اپروچ رکھتے ہیں، اس لیے ہم نے واضح کیا کہ جب تک ہم میں سے سب محفوظ نہیں ہوں گے، تب تک کوئی محفوظ نہ ہوگا۔ اس زاویہ نظر سے یہ بات آشکارا ہے کہ ترکی اپنی سالمیت کو اپنے پڑوسیوں کی سلامتی و حفاظت سے الگ نہیں سمجھتا جیسا کہ عراق، شام، ایران، یونین اور بلغاریہ، یا بحیرۂ روم اور بحیرۂ اسود کے ممالک۔ اس ضمن میں شام کے علاوہ لیبیا اور سودان میں یا مشرق وسطیٰ بھر میں ہونے والے واقعات ہمارے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

"ہم شام میں ہونے والی پیشرفت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں”

خارجہ پالیسی کے اس عالمی زاویہ نظر کے اظہار کے لیے جناب صدر نے جامع انداز میں بیرونِ ملک رابطے کیے اور بات چیت کی۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ صدر مملکت کل CICA اجلاس میں شرکت کریں گے اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ بات کریں گے۔ یہ اجلاس، جو تاجکستان میں ہوگا، وسط ایشیائی ممالک کے علاوہ روس، چین، بھارت اور ایران جیسی بڑی ریاستوں کے لیے بھی اہم ہے جو اس میں حصہ لے رہی ہیں۔ یہ ترکی کو خطے میں اپنے مفادات کے دفاع کے لیے اہم موقع فراہم کرے گا۔

جناب صدر نے پارٹی صدر دفاتر میں گزشتہ روز اپنی گفتگو میں نشاندہی کی کہ ترکی شام میں ہونے والی پیشرفت پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔۔ ہم ادلب، تل رفعت اور دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں ہونے والی پیشرفت کا محض جائزہ ہی نہیں لے رہے، بلکہ ان کے اپنے خلاف ہو جانے سے روکنے کے لیے خارجہ پالیسی کو بہت اہم اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

صدر مملکت کی قیادت کی بدولت ترکی و شام کی سرحد پر PKK کا ریاست بنانا اب ممکن نہیں رہا۔ ہم آفرین، ادلب اور دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں بھی پوری مستقل مزاجی کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔

"ہم ترکی اور ترک قبرصی باشندوں کے حقوق کا دفاع جاری رکھیں گے”

یہی معاملہ مشرقی بحیرۂ روم کے حوالے سے ہے۔ ہم یونانی قبرص کے اقدامات اور ترک قبرص اور اس کے باشندوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہرگز برداشت نہیں کریں گے کہ جو بین الاقوامی معاہدوں اور جغرافیائی مقام کی وجہ سے انہیں حاصل ہوئے ہیں۔ اب تک ہم ڈرلنگ اور تلاش کی سرگرمیوں کے علاوہ براعظمی کناروں اور مشرقی بحیرۂ روم میں خصوصی اقتصادی زون کے حوالے سے ترکی اور ترکی قبرص کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی بنیادی پوزیشن پر جمے ہوئے ہیں۔ اب ہم اپنے سوالات پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔”

تبصرے
Loading...