ہمارا مقصد شام میں اپنے بھائی بہنوں کو روشن مستقبل کی ضمانت دینا ہے، ایردوان

0 1,073

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ججز اور پرازیکیوٹرز کی تعیناتی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "شام اور عراق میں رہنے والے عرب، کرد اور ترکمان ہمارے حقیقی بھائی اور بہن ہیں۔ شامی زمینوں میں ہماری موجودگی کا واحد مقصد انہیں دہشت گردی تنظیموں کے حملوں سے بچانا  ہے اور ان کی آزادی اور ان کے روشن مستقبل کو یقینی بنانا ہے”۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بحیثیت ایک قوم کبھی بھی انہوں نے اس ذہنیت کے ساتھ کام نہیں کیا جس کا مقصد صرف اپنی سیکورٹی، انصاف اور خوشحالی ہو اور اس سلسلے میں دوسروں کا استحصال جائز سمجھ لیا ہو۔ طیب ایردوان نے کہا، "لہذا، ہم  نے کبھی بھی اپنی سرحدوں کو بند نہیں کیا اور اپنی زندگی کا لطف نہیں اٹھاتے رہے جیسا کہ کچھ کرتے ہیں اس حال میں کہ  ہمارے پڑوسیی اور دوست مصیبت میں گھرے ہوں۔ ہم نے اپنے دروازوں کو مظلوم لوگوں کو کھول دیا ہے جنہوں نے اپنی زندگی اور عزت بچانے کے لئے ہمارے ملک میں پناہ لی ہو”۔

یورپی یونین نے ترکی سے کئے گئے وعدے نہیں نبھائے

ایک ایسا عرصہ جب پناہ گزینوں کی آمد کے خوف نے دنیا کو پریشان کر دیا خاص کر یورپ کو اس حد تک لاحق ہوا کہ یہ خوف مالیخولیا میں بدل گیا، اس وقت ترکی میں پناہ گزینوں کو سہولیات فراہم کی گئیں جس کی تمام اطراف سے تعریف کی گئی ترک صدر نے مزید کہا "لیکن جو وعدے ترکی سے کئے گئے وہ پورے نہ ہوئے”۔

یاد دلاتے ہوئے کہ ریڈمشن معاہدے کے بعد ویزا لبرلائزیشن کا وعدہ کیا گیا لیکن اسے ابھی تک پورا نہیں کیا گیا، صدر ایردوان نے کہا، 3 بلین یورو کے ساتھ مزید 3 بلین یورو کا وعدہ شامی مہاجرین کو سہولیات کی فراہمی کی مد میں کیا گیا لیکن ابھی تک صرف 850 ملین یورو فراہم کئے گئے ہیں۔

آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عفرین امن کی جاہ نہیں بن جاتا

انہوں نے یہ بتاتے ہوئے کہ جب ترکی کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے نہ کئے گئے تو آپریشن شروع کیا گیا، صدر ایردوان نے کہا کہ شامی سرحد کے پار سے تسلسل سے آنے والے راکٹ فائر کے بعد آپریشن شاخ زیتون کا فیصلہ کیا گیا۔

رجب طیب ایردوان نے بتایا کہ اب تک آپریشن شاخ زیتون میں 3622 دہشتگرد بے اثر کئے گئے اور ابھی تک ترک اور آزاد شامی افواج علاقے میں تلاشی اور دہشتگردوں کی طرف سے نصب کئے جانے والے بمبوں کو ضائع کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عفرین امن کی جاہ نہیں بن جاتا۔

تبصرے
Loading...