ہم ترکی کو دنیا بھر کے سائنسدانوں کے لیے پرکشش مقام بنانا چاہتے ہیں، صدر ایردوان

0 234

‏TUBITAK اور TUBA ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہم ترکی کو دنیا بھر کے سائنسدانوں کے علاوہ اپنے شہریوں کے لیے بھی ایک پرکشش مقام بنانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے 21 مختلف ممالک سے 127 اعلیٰ سطحی محققین نے انٹرنیشنل فیلوشپ فار آؤٹ اسٹینڈنگ ریسرچرز پروگرام کے ذریعے اپنی تحقیقات کو ترکی منتقل کیا ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے سائنٹیفک اینڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ کونسل آف ترکی (TUBITAK) اور ترکش اکیڈمی آف سائنسز (TUBA) ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کیا جو ایوانِ صدر میں منعقد ہوئی۔

یہ کہتے ہوئے کہ چند ممالک سائنس اور ٹیکنالوجی کو ایک تباہ کن طاقت کے طور پر دیکھتے ہیں اور اسے استحصال کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ "دوسری جانب ہماری تہذیب لحاظ سے دوسروں سے ممتاز ہے۔ اس تہذیب کی اولاد نے سائنس آف ٹیکنالوجی کو صرف انسانیت کے لیے استعمال کیا۔ دوسروں نے دُور دراز جغرافیوں کو تربیت کا میدان بنایا اور نئی ٹیکنالوجی بنانے کے بعد نئي جنگیں شروع کیں۔ لیکن ہم نے جب بھی نئی ٹیکنالوجی بنائی، اسے ان علاقوں میں غربت اور غیر انسانی اقدامات کے خاتمے اور لوگوں کی زندگیاں بدلنے کے لیے استعمال کیا۔”

"127 اعلیٰ سطحی محققین نے اپنی تحقیقات ترکی منتقل کیں”

ترکی کے ویکسین کے لیے کام پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی نے ملک میں مقامی اور قومی ویکسین کی تیاری کے لیے نجی اداروں کو بھی متحرک کیا ہے، انہوں نے کہا کہ "اس شعبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری محض وبائی دور تک کے لیے محدود نہیں۔ اپنی ویکسین تیار کرنے اور بنانے والے ملک کی حیثیت سے ہم ان شاء اللہ اس میدان میں بین الاقوامی سطح پر ایک اہم کردار بنیں گے، جسے کئی سالوں سے نظر انداز کیا گیا ہے۔”

مزید زور دیتے ہوئے کہ TUBA کی بین الاقوامی اداروں کی چھتری تلے کی جانے والی سرگرمیاں سائنس کی دنیا میں ترکی کی مؤثریت کو بہتر بنانے میں بہت اہمیت رکھتی ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم ترکی کو دنیا بھر کے سائنسدانوں کے علاوہ اپنے شہریوں کے لیے بھی ایک پرکشش مقام بنانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے 21 مختلف ممالک سے 127 اعلیٰ سطحی محققین نے انٹرنیشنل فیلوشپ فار آؤٹ اسٹینڈنگ ریسرچرز پروگرام کے ذریعے اپنی تحقیقات کو ترکی منتقل کیا ہے۔”

تبصرے
Loading...