ترکی کو توانائی کا عالمی مرکز بنانا چاہتے ہیں، رجب طیب ایردوان

0 146

ترک اسٹریم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہم ترکی کو توانائی کا عالمی مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ ہم خطے میں تناؤ دیکھنے کے خواہش مند نہیں۔ مشرقی بحیرۂ روم میں تیل و گیس کی تلاش کا واحد مقصد ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے مفادات کا تحفظ ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول کے خلیج کانگریس سینٹر میں ترک اسٹریم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔

"ترکی کو پسِ پشت ڈال کر مشرقی بحیرۂ روم میں کوئی منصوبہ قابلِ عمل نہیں ہوگا”

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہم ترکی کو توانائی کا عالمی مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ ہم خطے میں تناؤ دیکھنے کے خواہش مند نہیں۔ مشرقی بحیرۂ روم میں تیل و گیس کی تلاش کا واحد مقصد ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے مفادات کا تحفظ ہے۔ جیسا کہ ہمارا ہمیشہ سے کہنا رہا ہے کہ ترکی کو پسِ پشت ڈال کر مشرقی بحیرۂ روم میں کوئی منصوبہ اقتصادی، قانونی اور سفارتی لحاظ سے قابلِ عمل نہیں ہوگا۔ بلاشبہ بحیرۂ روم کے ساتھ سب سے بڑی ساحلی پٹی رکھنے والا ترکی اس خطے میں تمام منصوبوں پر اختیار رکھتا ہے۔”

"ہم باہمی احترام اور عدل کی بنیاد پر ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں”

ساحل کے ساتھ واقع تمام ممالک کے مابین تعاون کا مطالبہ دہراتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ "آئیے بحیرۂ روم کو، تاریخ میں تہذیب کے گہوارے کی حیثیت رکھنے والے اس علاقے کو، تنازعات کے بجائے باہمی تعاون کے علاقے میں بدل دیں۔ ہم ہر مثبت قدم کے جواب میں کئی اقدامات اٹھانے کو تیار ہیں۔ ہم باہمی احترام اور عدل کی بنیاد پر ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔ ترکی کا وژن TANAP اور ترک اسٹریم کی صورت میں ظاہر ہے جو بالترتیب آذربائیجان اور روس کی قدرتی گیس کو یورپ تک لا رہے ہیں اور آج ہی ہم نے ترک اسٹریم کا فخریہ افتتاح کیا ہے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ تعاون کے لیے ہماری اس کوشش کو ٹھکرایا نہیں جائے گا۔”

امریکا اور ایران کے مابین حالیہ تناؤ پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم عراق، شام، لبنان اور خلیج کے علاقے کو، کہ جہاں سے 30 فیصد بحری توانائی تجارت ہوتی ہے، ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کے لیے میدانِ جنگ بنتے نہیں دیکھنا چاہتے۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ عراق کو پہلے سے ہی مسائل سے دوچار استحکام کے خطرے کا سامنا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "عراقی ترکمان بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت اتنی ہی اہم ہے جتنا ہمارے شہریوں کا تحفظ۔ عراق کے تمام لوگ چاہے عرب ہوں یا کرد، ترکمان، شیعہ یا سنّی، سب ہمارے بھائی اور بہن ہیں۔ ہم نے بارہا اس معاملے کی سنگینی کو مختلف مواقع پر نمایاں کیا ہے۔”

تقریب میں روس کے صدر ولادیمر پوتن، سربیا کے صدر الیگزیرنڈ ووچچ اور وزیر اعظم بلغاریہ بوئیکو بوریسوف بھی شریک تھے۔

تقریب کے بعد صدر ایردوان نے دورے پر آئے ہوئے سربراہان مملکت کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔

تبصرے
Loading...