ہم پُرعزم ہیں کہ بیت المقدس کو غاصبوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے، ایردوان

0 894

ترک صدر رجب طیب ایردوان امریکہ میں ترکن فاؤنڈیشن کی طرف سے دئیے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ہم پُرعزم ہیں کہ اپنے قبلہ ِ اوّل، بیت المقدس کو غاصبوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔ ہم القدس جو تین مذاہب کی مقدس جگہ ہے اسے اسرائیلی عزائم کا نشانہ نہیں بننے دیں گے۔ ہم القدس کے وقار، حرم شریف اوّل کی عزت اور اس شہر کی تاریخی علامت کا تحفظ کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے”۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان اقوام متحدہ کی جنرل کونسل کے 73ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیو یارک میں موجود ہیں، انہوں نے ترکن فاؤنڈیشن کی طرف سے منعقد کئے گئے عشائیہ میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ مسلمان اور انسانیت ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں اور انہیں نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ترک صدر نے کہا، "یہ انتہائی دکھ بھری بات ہے کہ اسلامی جغرافیہ اس وقت خانہ جنگی اور اندرونئ تنازعات کا شکار ہے۔ وہ لوگ جنہیں اینٹوں کی طرح باہم جڑنا تھا، اس کے بجائے وہ سامراجیوں کے اشتعال دلانے پر ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں”۔

اسرائیل اسلام کی علامت ہمارے قبلہِ اوّل کو مٹانے کے لیے کام کر رہا ہے

صدر ایردوان نے کہا، "القدس جو صدیوں سے امن کی علامت تھی، آج افسوس کے ساتھ خود کو قائم رکھنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ شدت پسند صہیونی جنہیں اسرائیلی انتظامیہ نے کھلی آزادی دے رکھی ہے وہ اس مقدس شہر کی تاریخی باقیات پر حملے کر رہے ہیں۔ اسرائیل مسلمانوں کی کمزوری اور عدم اتحاد سے جرات حاصل کر رہا ہے اور اسلام کی علامت ہمارے قبلہِ اوّل کو مٹانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ وہ پوری دنیا کے سامنے ان فلسطینوں کو دہشتگرد قرار دے کر قتل کر رہا ہے جو اس کے قبضے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ بہت سے ممالک جو جمہوریت کے پیغامبر بنتے ہیں وہ فلسطینی شہریوں کی اس ظالمانہ قتل عام پر ایک لفظ منہ سے نہیں نکالتے”۔

کوئی نہیں بولتا جب بیلسٹک میزائل ہسپتالوں اور اسکولوں میں لوگوں کا قتل عام کرتے ہیں

وہی خاموشی جو ہم فلسطین کے معاملے میں دیکھتے ہیں وہی خاموشی شام میں گذشتہ سات سال سے دکھائی دے رہی ہے۔ صدر ایردوان نے کہا کہ بہت سے ممالک کی ایک ملین شامی جانوں اور 13 ملین مہاجروں پر پلک تک نہیں جھپکتی۔ انہوں نے کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں پر بولنے والے ہر روز عام مہلک ہتھیاروں سے شہریوں کے قتل عام کی مذمت تک نہیں کرتے یا پھر ان بچوں پر جو بیرل بموں کے نیچے اپنی جان کھو بیٹھتے ہیں۔

عالمی تنظیمیں شام کے معاملے پر بھی خاموش ہیں

صدر ایردوان نے مزید کہا، "میں افسوس سے اس حقیقت کا اظہار کرتا ہوں کہ آج کوئی تنظیم، عدالت یا میکانزم نہیں ہے جو مظلوم کے حقوق کا تحفظ کر سکے اور ظالموں کو ان کی شناخت سے بالاتر ہو کر پکڑ سکے۔ بدقسمتی سے۔۔۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل جو عالمی سیکیورٹی کی ذمہ دار ہے وہ شام کے معاملے پر خاموش ہے بالکل جیسے بوسنیا، کوسوو، فلسطین، روانڈا، یمن اور اراکان کے معاملے پر خاموش رہی”۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ تنظیمیں جو سیبرینیکا قتل عام کو نہیں روک پائی تھیں، ایک بار پھر 20 سال بعد ادلب میں شہریوں کے قتل عام کو خاموشی سے دیکھ رہی تھیں۔ "یہ کیا صرف ترکی نہیں تھا جس نے ادلب کو ایک بڑی تباہی سے وقتی طور پر بچا لیا ہے”۔

ہم القدس کو اسرائیلی عزائم کا نشانہ نہیں بننے دیں گے

صدر ایردوان نے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ہم پُرعزم ہیں کہ اپنے قبلہ ِ اوّل، بیت المقدس کو غاصبوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔ ہم القدس جو تین مذاہب کی مقدس جگہ ہے اسے اسرائیلی عزائم کا نشانہ نہیں بننے دیں گے۔ ہم القدس کے وقار، حرم شریف اوّل کی عزت اور اس شہر کی تاریخی علامت کا تحفظ کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے”۔

تبصرے
Loading...