ہم ہنگری کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے پُر عزم ہیں، صدر ایردوان

0 264

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم ہنگری کے ساتھ اپنا تعاون اور یکجہتی بڑھانے کے لیے پر عزم ہیں جو ہمارا ترکش کونسل کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ہمارا تزویراتی شراکت دار ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربن نے ترکی-ہنگری اعلیٰ سطحی تزویراتی تعاون کونسل کے پانچویں اجلاس کے بعد ایوانِ صدر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔

"ہمارا ہدف دو طرفہ تجارت کے حجم کو 6 ارب ڈالرز تک پہنچانا ہے”

وزیر اعظم اوربن اور ان کے وفد کی میزبانی پر اظہارِ مسرت کرتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ ہنگری کے ساتھ ترکی کے معاشی و تجارتی تعلقات روز افزوں بہتر ہو رہے ہیں، اور کہا کہ "ہمارا ہدف پہلے مرحلے میں اسے 6 ارب ڈالرز تک پہنچانا ہے۔ آج ہم نے وزیر اعظم کے ساتھ ان مشترکہ اقدامات پر تفصیلاً بات کی ہے جو ہم اس سمت میں اٹھائیں گے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہمارے سرمایہ کاروں کی ہنگری میں دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ یہ جاری اور آئندہ سرمایہ کاری کے ساتھ تقریباً 3 ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔”

ہنگری میں پکڑ کر ترکی کو واپس کی گئیں 101 تاریخی نوادرات کے موضوع پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے وزیر اعظم اوربن اور ہنگری کے تمام حکام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس معاملے پر حساسیت کا مظاہرہ کیا اور قریبی تعاون کیا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ہنگری کے حکام کا تعاون دیگر ممالک کے لیے ایک مثال بنے گا۔

ترکش کونسل اجلاس

ترکش کونسل کے 8 ویں اجلاس کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہ جو 12 نومبر 2021ء کو استنبول میں ہوگا، صدر ایردوان نے بتایا کہ وزیر اعظم اوربن اس اجلاس میں بھی شرکت کریں گے اور کہا کہ ” ہم ہنگری کے ساتھ اپنا تعاون اور یکجہتی بڑھانے کے لیے پر عزم ہیں جو ہمارا ترکش کونسل کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ہمارا تزویراتی شراکت دار ہے۔”

مہاجرین کا بحران

بعد ازاں الیگزینڈروپولی کے لیے امریکا کی مسلسل شپمنٹ اور یونانی وزیر اعظم کیریاکوس متسوتاکیس کے اس بیان پر کہ مہاجرین کا بحران ترکی سے جنم لے رہا ہے، کے حوالے سے صحافیوں کے سوالات پر انہوں نے کہا کہ "تقریباً 50 لاکھ مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ملک کے لیے یہ کہنا کہ مہاجرین کا بحران یہاں سے جنم لے رہا ہے، سراسر احسان فراموشی ہے۔”

صدر نے زور دیا کہ "میں تصور نہیں کر سکتا کہ یونان کیا کرے گا اگر ہم اپنے دروازے کھول دیں،” اور مزید کہا کہ یہ درحقیقت یونان تھا کہ جس نے کشتیوں کو ڈبو کر مہاجرین کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ "بد قسمتی سے متسوتاکیس اور ان کے پشت پناہ جھوٹ بول کر اپنی جان چھڑانا چاہ رہے ہیں۔ انہوں نے دیانت دارانہ اقدامات نہیں اٹھائے، اس لیے انہیں علاقائی اعتماد حاصل نہیں۔”

"ہم اس خطے کے لیے ضمانت ہیں”

الیگزینڈروپولی میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے صدر ایردوان نے زور دیا کہ نہ صرف الیگزینڈروپولی بلکہ پورا یونان امریکی اڈے میں بدل چکا ہے اور مزید کہا کہ "میں نے اس حوالے سے بائیڈن سے بات کی اور جب ہمارے وزیر قومی دفاع اور وزیر امور خارجہ نے ان معاملات پر متعلقہ حکام کے ساتھ مذاکرات میں بات کی تو انہوں نے اس معاملے سے نظریں چرائیں اور دیانت دارانہ جواب نہیں دیا۔”

مزید زور دیتے ہوئے کہ ترکی فوجی اہلکاروں اور مالی امداد دونوں کے لحاظ سے نیٹو میں ان سر فہرست سات ممالک میں تھا، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارا خود پر یقین اور اعتماد ہے۔ ہم اس خطے کے لیے ضمانت ہیں۔”

تبصرے
Loading...