ترک جمہوریہ شمالی قبرص کو سیاسی و معاشی طور پر عالمی نظام میں یکساں اور باوقار رکن کی حیثیت ملنے تک جدوجہد جاری رکھیں گے، صدر ایرودان

0 179

وزیر اعظم ترک جمہوریہ شمالی قبرص ارسین تاتار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "ہم جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک کہ ترک جمہوریہ شمالی قبرص (TRNC) کو سیاسی و معاشی طور پر عالمی نظام میں یکساں اور باوقار رکن کی حیثیت نہیں مل جاتی۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے وزیر اعظم ترک جمہوریہ شمالی قبرص ارسین تاتار کے ساتھ ایوانِ صدر میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

صدر ایردوان اور وزیر اعظم تاتار نے TRNC واٹر سپلائی پروجیکٹ کی مرمت کے بعد فراہمی آب کی تقریب سے بذریعہ وڈيو کانفرنس خطاب کیا۔

صدر ایردوان نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ TRNC میں اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات ترک قبرصی باشندوں کے لیے نیک شگون ثابت ہوں گے کہ جو بارہا اپنی جمہوری پختگی کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔

"مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی اور شمالی قبرص کو نظر انداز کرکے کوئی بھی معاملہ کامیاب نہیں ہو سکتا”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارے لیے مشرقی بحیرۂ روم کے مسئلے کے دو پہلو ہیں: پہلا ترکی کے اپنے براعظمی کنارے (continental shelf) کا تحفظ کرنا۔ دوسرا ہے جزیرہ قبرص کے گرد موجود وسائل میں ترک قبرص حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا۔”

مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کی سرگرمیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارے قومی ڈرلنگ اور سیسمک ریسرچ بحری جہاز اپنے براعظمی کنارے اور ساتھ ہی TRNC کے لائسنس یافتہ علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ ان شاء اللہ ہم مشرقی بحیرۂ روم میں بھی گیس کی کامیاب تلاش کریں گے، جیسا کہ بحیرۂ اسود میں کی۔ جب ہم ایسا کریں گے تو پوری دنیا دیکھے گی کہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی آئے گی۔ جیسا کہ ہم ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی اور شمالی قبرص کو نظر انداز کرکے کوئی بھی معاملہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ یونانی قبرص کی ذہنیت 2004ء سے اب تک تبدیل نہیں ہوئی، صدر ایرودان نے کہا کہ "ان کی واحد تشویش یہ ہے کہ ترک قبرصی باشندوں کے حقوق غصب کرکے بنائی گئي جعلی ریاست میں ترک قبرصی اقلیت بن جائیں گے۔ ترک قبرصی باشندے اس پر کبھی راضی نہیں ہوں گے۔ ترک قوم نے یکساں اختیار کے لیے ترک قبرصی باشندوں کی جدوجہد میں انہیں کبھی تنہا چھوڑا ہے اور نہ کبھی چھوڑیں گے۔”

"ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے لیے واٹر سپلائی پروجیکٹ کا آغاز 2015ء میں ہوا”

قبرص کے لیے پانی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے TRNC واٹر سپلائی پروجیکٹ کے دوبارہ آغاز پر مسرت کا اظہار کیا، جو اناطولیہ سے قبرص کو پانی فراہم کرتا ہے۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک کہ ترک جمہوریہ شمالی قبرص (TRNC) کو سیاسی و معاشی طور پر عالمی نظام میں یکساں اور باوقار رکن کی حیثیت نہیں مل جاتی۔”

"ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے مضبوط ہونے سے ان پر عائد پابندیوں کی زنجیریں ایک، ایک کرکے ٹوٹ جائيں گی”

صدر ایردوان نے کہا کہ "میرے خیال میں مرعش، جو پورے مشرقی بحیرۂ روم میں سب سے مقبول سیاحتی مقام تھا، اپنی ماضی کی بلندیاں حاصل کرے گا۔ ہمیں خوشی ہے کہ ابتدائي قدم کی حیثیت سے ترک قبرص جمعرات کی صبح سے بند علاقے کو کھول دے گا تاکہ مرعش کی ساحلی پٹی سے فائدہ اٹھائے۔ امید ہے کہ علاقے میں تعمیراتی کام جلد از جلد مکمل ہو جائے گا اور مرعش کو منصوبے کے مطابق کھول دیا جائے گا۔ ہم اس سلسلے میں شمالی قبرص کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہیں۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "مرعش کو خطے کا مقبول ترین سیاحتی مقام بنا کر ہم شمالی قبرص کی معیشت کو زبردست فائدہ پہنچائیں گے۔ ہمیں خطے میں قدرتی گیس و تیل کی تلاش کے حوالے سے جلد ہی اچھی خبر مل سکتی ہے۔ پانی کی پائپ لائن کو بھی ذہن میں رکھیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ مستقبل قریب میں توانائی، زراعت اور سیاحت سے آمدنی کئی گنا بڑھے گی۔”

ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے عظیم تر، امیر تر اور مضبوط تر ہونے سے پابندیوں کی زنجیریں ایک، ایک کرکے ٹوٹ جائیں گی۔ ترکی کی سیاسی، سفارتی اور فوجی طاقت بڑھنے سے ہم اس مقام تک پہنچ رہے ہیں جس کے بارے میں بڑے کہتے ہیں کہ ‘قوت کھیل کا رخ بدلتی ہے’ ۔ ان تمام مسائل پر مضبوط ارادہ ترک قبرص کے روشن اور ترقی یافتہ مستقبل کے لیے اہم موقع ہے۔ میں ایک مرتبہ پھر اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ مرعش کو کھولنا ترک قبرص کے لیے مبارک نتائج پیش کرے گا۔”

تبصرے
Loading...