ہم سمندروں میں اپنے اور ترک قبرص کے حقوق کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہیں، صدر ایردوان

0 193

ماہی گیری کے سیزن کے آغاز کے لیے گیریسون میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم بحیرۂ روم اور ایجیئن میں قزاقی یا رہزنی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ کوئی ہمارے ملک کو انطالیہ کے ساحل تک محدود نہیں کر سکتا کہ جو بحیرۂ روم کے ساتھ طویل ترین ساحلی پٹی رکھتا ہے۔ ہم سمندروں میں آخر تک اپنے ملک اور ترک قبرص کے حقوق کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ماہی گیری کے سیزن کے آغاز کے لیے گیریسون میں ایک تقریب سے خطاب کیا۔

صدر ایردوان نے سیلاب سے متاثرہ گیریسون کے ضلع دیریلی میں شہریوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ترکی نے منصوبہ بندی کے تحت شہر بسانے کی سوجھ بوجھ حاصل کر لی ہے جس نے پچھلے 20 سالوں میں بنیادی ڈھانچے میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ گیریسون میں آنے والے سیلاب سے جو سبق ہم نے سیکھا ہے وہ آئندہ کاموں میں ہماری رہنمائی کرے گا۔”

صدر ایردوان نے زور دیا کہ "ریاست اور قوم کی حیثیت سے اپنے شہریوں کو عالمی معیار کے مطابق مل جل کر تعمیر کریں گے۔”

"بحیرۂ اسود میں قدرتی گیس کی دریافت ہمارے ملک کی حقیقی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے”

ماہی گیروں کے لیے ایک اچھے سیزن کی امید کرتے ہوئے صدر ایردوان نے بحیرۂ اسود میں قدرتی گیس کی دریافت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "الحمد للہ اِس سال ہمیں سمندر سے اچھی خبریں مل رہی ہیں۔ 320 ارب مکعب میٹر قدرتی گیس ظاہر ہوئی ہے جو نہ صرف کہ اندر موجود ہے بلکہ پانی کی گہرائی میں مزید امکانات بھی موجود ہیں۔ یہ دریافت ہمارے ملک کی حقیقی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے کہ جس کے گرد بھرپور قدرتی وسائل موجود ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ جو ذخیرہ ہم نے دریافت کیا ہے وہ زیادہ بڑے ذخائر کا پیش خیمہ ہے۔”

"ہم بحیرۂ روم اور ایجیئن میں قزاقی یا راہزانی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترک بحری جہاز عروج رئیس مشرقی بحیرۂ روم میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمیں جلد ہی بحیرۂ روم سے بھی اچھی خبر ملنے کی امید ہے ، جیسا کہ بحیرۂ اسود سے ملی۔ ہم ترک نہ ہی دوسروں کے حقوق پر قبضہ کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کو اپنے حقوق غصب کرنے کی اجازت دیں گے۔ ہم بحیرۂ روم اور ایجیئن میں قزاقی یا رہزنی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ کوئی ہمارے ملک کو انطالیہ کے ساحل تک محدود نہیں کر سکتا کہ جو بحیرۂ روم کے ساتھ طویل ترین ساحلی پٹی رکھتا ہے۔ ہم سمندروں میں آخر تک اپنے ملک اور ترک قبرص کے حقوق کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "ہمیں معلوم ہے کہ ترکی کے 83 ملین شہری اس معاملے پر ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم سابق نو آبادی طاقتوں کی پشت پناہی پر ترکی کو للکارنے والوں کو یہی مشورہ دیں گے کہ وہ ایک مرتبہ پھر حالیہ تاریخ کا مطالعہ کریں۔”

تبصرے
Loading...