ہم دریائے فرات کے مشرق میں واقع دہشت گردی کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے پُر عزم ہیں، صدر ایردوان

0 643

آق پارٹی کے صوبائی صدور کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے برداشت نہیں کریں گے، اور شامی سرحد کے ساتھ سیف زون کے قیام کے لیے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کا جو بھی نتیجہ نکلے، ہم ان ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے پُر عزم ہیں۔

انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے چیئرمین رجب طیب ایردوان پارٹی کے صوبائی ذمہ داران سے انقرہ میں خطاب کر ہے تھے۔

"ترکی کے ماتحت ایک سیف زون کے قیام کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری”

ترکی کی نگرانی میں شامی سرحد کے ساتھ تقریباً 30 سے 35 کلومیٹر چوڑا سیف زون بنانے کے لیے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا روس سے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹمز خریدنے کے معاملے پر عقلِ سلیم استعمال کرے گا۔

S-400 اور اس کے پرزوں کی روس سے ترکی ترسیل کے جاری عمل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ S-400 اپریل 2020ء سے آپریشنل ہوں گے۔ "میں ایک مرتبہ پھر کہنا چاہوں گا کہ کوئی دھمکیاں یا پابندیاں، خاص طور پر F-35 منصوبے سے ترکی کا اخراج، ہمیں اپنی سکیورٹی ترجیحات پر عملدرآمد سے روک نہیں سکتیں۔ اس معاملے پر ترکی کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔”

"اپنے معاملات پر کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں”

شام میں دریائے فرات کے مشرق میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی کسی صورت اجازت نہ دینے کے عزم پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے برداشت نہیں کرے گا، چاہے شامی سرحد کے ساتھ سیف زون کے قیام کے لیے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کا جو بھی نتیجہ نکلے۔”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "ہم نے اب تک ان معاملات کو اچھی طرح سنبھالا ہے۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے نہ ہی یورپ اور امریکا کی جانب سے پابندیاں، کہ جو اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور نہ ہی خطے میں جمع کیے گئے لاکھوں ہتھیار اور آلات ہمیں روک سکتے ہیں۔ کیا ہم ایک طرف کھڑے ہوکر سب کچھ دیکھتے رہیں؟ ہم وہ کر رہے ہیں جس کی ضرورت ہے اور یہ کام جاری رکھیں گے، جس کے لیے ہمیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنا جانتے ہیں۔”

"ترکی تمام بہترین اقدامات اٹھائے گا”

اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ وہ جو ترکی کے تزویراتی شراکت دار کی حیثیت سے دیکھے جاتے ہیں مفت میں دہشت گرد تنظیموں کو لاکھوں ہتھیار اور گولا بارود دے رہے ہیں، صدر ایردوان نے ان F-35 طیاروں کے حوالے سے بتایا کہ جن کے لیے ترکی 1.4 ارب ڈالرز کی ادائیگی کر چکا ہے کہ یہ جہاز امریکا میں مقیم ترک پائلٹوں کو دینے کے باوجود ان کی ترکی کو فراہمی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی اپنے لیے بہترین اقدامات اٹھائے گا، صدر ایردوان نے کہا کہ "میں امریکی کانگریس کو کہتا ہوں کہ جب ہم صدر اوباما کے دور میں پیٹریاٹ میزائل خریدنا چاہتے تھے تو آپ نے ہمیں نہیں دیے۔ اب یہ ٹرمپ کا دور ہے اور اب بھی پابندیاں لگانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ہم خریدنا چاہتے ہیں، آپ دینے کو تیار نہیں تو ہم کیا کریں؟ ہم ان کے پاس جائیں گے جو ہمیں دیں گے۔”

"ہم نے مشرقی بحیرۂ روم میں عالمی قوانین کے مطابق اقدامات اٹھائے”

مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کو اپنے قانونی حق کے استعمال سے روکنے کی نامعقول اور غیر قانونی حرکتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "وہم نے بین الاقوامی قانون اور بحری قوانین کے مطابق اقدامات اٹھائے ہیں اور ایسا جاری رکھیں گے۔ ہم قبرص میں اپنے عزیز رکھتے ہیں۔ ہم قبرص کے معاملے میں کوئی عام ملک نہیں بلکہ ضامن ملک ہیں۔ ترکی، شام اور برطانیہ ضامن ممالک ہیں۔”

مزید یہ کہتے ہوئے کہ یورپی یونین نے مہاجرین کے حوالے سے اپنے وعدے پورے نہیں کیا اور شام اور مشرقی بحیرۂ روم کے حوالے سے ترکی کی پالیسی کو کھلے عام ہدف کا نشانہ بنایا، صدر ایردوان نے اشارہ کیا کہ بڑھتی ہوئی نسل پرستی، اسلام مخالفت اور ترکوں کے خلاف عداوت کے ساتھ ساتھ حملے بر اعظم کے مستقبل کے لیے خطرناک اشارے ہیں۔

مسئلہ فلسطین پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم ریاستی دہشت گردی پر خاموش نہیں رہیں گے کہ جو اسرائیل نے فلسطین کے خلاف روا رکھی ہوئی ہوئی ہے۔”

تبصرے
Loading...