ادلب کو اپنے باسیوں اور ترکی دونوں کے لیے محفوظ بنانے کا عزم رکھتے ہیں، صدر ایردوان

0 533

آق پارٹی کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ترکی ادلب میں اپنے آپریشن کے ارادوں پر عملدرآمد کرنے کو مکمل طور پر تیار ہے۔ ہم ادلب کو شامی حکومت یا اس کی پشت پناہی کرنے والوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم خطے میں ہونے والی کسی بھی پیشرفت کا بوجھ اپنے ملک کے کاندھوں پر نہیں پڑنے دیں گے۔ ہم ہر قیمت پر ادلب کو اس کے باسیوں اور ترکی دونوں کی خاطر محفوظ بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔”

صدر اور انصاف و ترقی (آق) پارٹی کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کیا۔

"ادلب آپریشن کا آغاز کسی بھی وقت ہونے والا ہے”

شام میں لڑائی کو فیصلہ کن اور ترکی کی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس کے 83 ملین شہریوں کے امن و سکون کے لیے بھی اہم قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "جن علاقوں میں ہم آپریشن کر رہے ہیں وہاں ہراساں کرنےکی تمام کوششوں کا کرارا جواب دیں گے۔ ہر بارہا علانیہ کہہ چکے ہیں کہ اگر متعلقہ ممالک ترکی کے سکیورٹی خدشات کو ختم کرنے میں ناکام رہے تو ہمیں معاملات اپنے ہاتھوں میں لینا پڑیں گے۔ ہم شامی حکومت کے جارحانہ رویّے کے خاتمے اور اسے سوچی مفاہمت کے تحت اپنی حدوں میں واپس لے جانے کے آخری ایّام میں داخل ہو رہے ہیں۔ ہم آخری انتباہ دے رہے ہیں۔”

میدانِ عمل میں اور ساتھ ساتھ ترکی و روس کے مابین ہونے والے مذاکرات سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "اس امر کے باوجود کہ مذاکرات جاری رہیں گے، یہ بالکل واضح ہے کہ موجودہ حالات ہماری خواہشوں کے مطابق نہیں۔ ترکی ادلب میں اپنے آپریشن کے ارادوں پر عملدرآمد کرنے کو مکمل طور پر تیار ہے۔ ہم ادلب کو شامی حکومت یا اس کی پشت پناہی کرنے والوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم خطے میں ہونے والی کسی بھی پیشرفت کا بوجھ اپنے ملک کے کاندھوں پر نہیں پڑنے دیں گے۔ ہم ہر قیمت پر ادلب کو اس کے باسیوں اور ترکی دونوں کی خاطر محفوظ بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔”

تبصرے
Loading...