ہم ان دہشتگرد گروہوں کو ختم کرنے پر یکسو ہیں جو شام سے ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں، ایردوان

0 1,751

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے روسی ہم منصب پوٹن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم نے شام میں امن اور سیکیورٹی کی بحالی کے لیے مستقبل میں مشترکہ اقدامات بارے بات چیت کی ہے۔ روس کے ساتھ باہمی سمجھ داری کی بنیاد پر، ہم ان دہشتگرد گروہوں کو ختم کرنے پر یکسو ہیں جو شام سے ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں”۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان اور روسی ہم منصب نے ماسکو میں ترکی روس اعلیٰ سطحی تعاون کونسل کے اجلاس کے بعد مشترکہ طور پر پریس کانفرنس کی۔

ترک صدر ایردوان نے کہا، "ہم نے ترکی اور روس کے درمیان تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ہم نے تمام شعبوں میں اپنے تعلقات کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں مستقبل میں کون سے قدم اٹھائے جائیں، اس پر بات چیت کی ہے”۔

انہوں نے مزید کہا، "ہمارا روس کے ساتھ تجارتی حجم 26 بلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ یہ ایک کامیابی ہے لیکن ہماری حیثیت اس عدد سے کہیں زیادہ ہے”۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی حجم کو 100 بلین ڈالر کے ہدف پر تک پہنچایا جائے گا۔

صدر ایردوان نے سال 2019ء کو ترکی اور روس کے درمیان ثقافت اور سیاحت کا سال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ترکی اور روس کے مابین مشترکہ طور پر معاشرتی اور ثقافتہ تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں اس لیے ہم نے باہمی اتفاق سے سال 2019ء کو ثقافت اور سیاحت کا سال قرار دیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ "گذشتہ سال ترکی نے 6 ملین روسی سیاحوں کو اپنا مہمان بنایا جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم 2019ء میں یہ ریکارڈ توڑ دیں گے”۔

شام بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ شامی بحران صرف اور صرف سیاسی حل سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ایردوان نے مزید کہا کہ "ہم نے شام میں امن اور سیکیورٹی کی بحالی کے لیے مستقبل میں مشترکہ اقدامات بارے بات چیت کی ہے۔ روس کے ساتھ باہمی سمجھ داری کی بنیاد پر، ہم ان دہشتگرد گروہوں کو ختم کرنے پر یکسو ہیں جو شام سے ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ ہم نے ادلب میں محفوظ علاقہ قائم کر کے ایک نئے انسانی المیے کا خاتمہ کیا ہے”۔

 

تبصرے
Loading...