اب ترکی میدانِ عمل میں اور مذاکرات کی میز پر دونوں جگہ اہم مقام رکھتا ہے، صدر ایردوان

0 215

قونیہ سٹی ہسپتال کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہمارے پرعزم، متحرک اور ثابت قدم رویّے کی بدولت بین الاقوامی برادری کے تمام کرداروں کو علاقائی و عالمی معاملات میں ترکی کو رکھنا ہوگا۔ ہم اب ایک ایسا ملک ہیں جو میدانِ عمل میں اور مذاکرات کی میز پر دونوں جگہ اہم مقام رکھتا ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے قونیہ سٹی ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔

"ترکی کو ایک مرتبہ پھر نئے عالمی نظام کی تعمیر سے خارج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے”

COVID-19کی وباء کی بدولت دنیا میں جاری تبدیلیوں کے تیز رفتار عمل کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ہمارے ملک نے جو کوششیں حالیہ کچھ عرصے میں وطنِ عزیز میں اور بیرونِ ملک کی ہیں وہ اس تبدیلی کے عالمی عمل سے ہرگز آزاد نہیں ہیں۔ محض ایک صدی قبل، بالکل نصف صدی پہلے کی طرح، ترکی کو ایک مرتبہ پھر نئے عالمی نظام کی تعمیر سے خارج کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس وقت دنیا کو مصروف رکھنے والے تقریباً تمام بحرانی علاقے ہمارے ملک کے اردگرد ہیں۔ جب آپ شام سے لے کر بحیرۂ روم اور قفقاز تک کے ان بحرانوں کو ملاتے ہیں تو جو تصویر ابھرتی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ ترکی کا گھیراؤ کرنے کی واضح کوشش ہے۔ ہم نے اس منصوبے کو پہلے ہی سمجھ لیا تھا۔ ایک طرف ہم نے قومی اتحاد اور ملکی سالمیت اور اپنی ریاست کی طاقت کو بھی برقرار رکھا۔ دوسری جانب ہم نے اس گھیراؤ کو توڑنے کے لیے ایک، ایک کرکے اقدامات اٹھائے۔ یہی نہیں ‘دنیا پانچ سے کہیں بڑی ہے’ پر اصرار کرکے ہم نے اُن کو پیغام دیا ہے کہ یہ آسان نہیں ہوگا۔ جو ہمارے الفاظ پر کان نہیں دھرتے اور ہماری کوششوں کو خاطر میں نہیں لاتے، ہمارے ملک سے غفلت برتی اور اپنی پرانے چلن پر برقرار رہے، بالآخر انہوں نے دیکھا کہ سچ ویسا نہیں تھا جیسا انہوں نے سوچا تھا۔

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی نے اب تک جو کہا اور جو وعدہ کیا اس پر پورا اترا، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارے پرعزم، متحرک اور ثابت قدم رویّے کی بدولت بین الاقوامی برادری کے تمام کرداروں کو علاقائی و عالمی معاملات میں ترکی کو رکھنا ہوگا۔ ہم اب ایک ایسا ملک ہیں جو میدانِ عمل میں اور مذاکرات کی میز پر دونوں جگہ اہم مقام رکھتا ہے۔”

"کوئی بھی جگہ جہاں سے ہمیں خطرہ لاحق ہوگا، ہم وہاں کارروائی کریں گے”

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترکی نے اپنی تاریخ کامیاب ترین دور گزارا ہے، صدر نے کہا کہ میدانِ عمل میں شام میں ہم 8,200 مربع کلومیٹرز کے رقبے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ جو شام کے اندر دہشت گردوں کی راہداریاں بنا کر ہمارے ملک کو دھمکانے کے منصوبے رکھتے ہیں انہیں اب بخوبی اندازہ ہو گیا ہے کہ یہ داؤ اور چالیں اب نہیں چلنے والی۔ کوئی بھی جگہ جہاں سے ہمیں خطرہ لاحق ہوگا، ہم وہاں کارروائیاں کریں گے۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی کے دشمن اب شام جیسا منصوبہ بحیرۂ روم میں بھی تیار کر رہے ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ "ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے بعد لیبیا کے ساتھ بھی ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں ہم نے مشرقی بحیرۂ روم کے بڑے حصے کو اپنی سرگرمیوں کے لیے قانونی علاقہ بنا لیا ہے۔ اس کے علاوہ بحیرۂ اسود میں دریافت ہونے والے گیس کے وسیع ذخائر بھی ہمارے حوصلوں کو بلند رکھنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ ہماری کوششوں کا صلہ بھی ملے گا۔ جو ہمیں خالی خولی دھمکیوں، بلیک میلنگ اور طاقت کے مضحکہ خیز مظاہروں کے ذریعے دیوار سے لگانے میں ناکام ہوئے اب انہیں مذاکرات کے مطالبات پر کان دھرنا پڑے۔”

نگورنو-قراباخ میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ "آرمینیا نے آذربائیجان کے علاقوں پر اس وقت حملہ کیا جب کاراباخ کا معاملہ ابھی حل ہونا باقی ہے کہ جو آرمینیا کے قبضے میں ہے۔ البتہ اس مرتبہ انہیں ایسے نتائج کا سامنا ہے جس کی انہیں کبھی توقع نہیں تھی۔ برادر ملک آذربائیجان نے ایک بڑی جوابی کارروائی شروع کی ہے اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے بھی اور مقبوضہ قاراباخ کو آزاد کرانے کے لیے بھی۔ آذربائیجانی فوج نے، جو اب تک اس محاذ پر کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے، اب تک کئی علاقوں کو آزاد کروا لیا ہے۔ ترکی تہہ دل سے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ دوست اور برادر ملک آذربائیجان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا۔ ان شاء اللہ، یہ جدوجہد قراباخ کی آزادی تک جاری رہے گی۔”

تبصرے
Loading...