"ہم ترکی کی سکیورٹی ضروریات کے حوالے سے اپنی کثیر سطحی تلاش جاری رکھیں گے”، صدر ایردوان

0 757

آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی اپنی سکیورٹی ضروریات کے حوالے سے اپنی کثير سطحی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں اور "ہم S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کی وصولی اگلے مہینے شروع کرنے والے ہیں، جس کا آرڈر پہلے ہی دے دیا گیا تھا۔ ہم اپنی سکیورٹی ضروریات کے حوالے سے مختلف آپشنز کو ہمیشہ کھلا رکھنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ترکی کو اپنی سکیورٹی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے کسی کے ساتھ مذاکرات کرنے، کسی سے اجازت دیے یا کسی ملک کے دباؤ کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں۔”

صدر مملکت اور انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے اجلاس سے خطاب کیا۔

23 جون کو استنبول کے میئر کے لیے دوبارہ ہونے والے انتخابات کو شہر اور ترکی کے لیے مفید پیشرفت قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے ایک مرتبہ پھر جمہور خلق پارٹی (CHP) کے امیدوار اکرم امام اوغلو کو کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ استنبول کے شہریوں کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

روس سے S-400 کا حصول

ترکی کی جانب سے روس سے S-400 خریدنے کے معاملے پر صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی سکیورٹی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی کثیر سطحی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہا کہ "ہم S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کی وصولی اگلے مہینے شروع کرنے والے ہیں، جس کا آرڈر پہلے ہی دے دیا گیا تھا۔ ہم اپنی سکیورٹی ضروریات کے حوالے سے مختلف آپشنز کو ہمیشہ کھلا رکھنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ترکی کو اپنی سکیورٹی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے کسی کے ساتھ مذاکرات کرنے، کسی سے اجازت دیے یا کسی ملک کے دباؤ کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں۔ S-400 کا معاملہ ہماری بقاء کے حق سے تعلق رکھتا ہے اور ہم اس پر ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”

"ہم نے خطے کے بحران میں ترکی کو حصہ بنانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا”

ایک ایسے وقت میں جب خطے اور دنیا میں سنگین معاملات آگے بڑھ رہے تھے، ترکی کو تنہا کرنے کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہدف ترکی کو عالمی منظرنامے سے ہٹانا ہے جسے ازسرِ نو ترتیب دیا جا رہا ہے۔ ہم شروعات سے ہی ان ارادوں کو دیکھ رہے ہیں اور اس لحاظ سے اپنی تیاری مکمل کر چکے ہیں۔ دھمکیوں کے مقابلے پر لچک دکھائے بغیر ہم نے ملک کی بنیادی سفارتی، سلامتی و اقتصادی ترجیحات پر معمولی سی رعایت برتے بغیر واضح طرزِ عمل اختیار کیا۔”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "ہم نے علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم کو اندرون و بیرونِ ملک بے اثر بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات اٹھائے۔ اپنے آپریشنز کے ذریعے ہم نے کئی کامیابیاں حاصل کیں جو شمالی عراق سے ہمارے ملک پر ہونے والے حملوں کو ابتداء ہی سے ختم کریں گی۔ ہم نے شام میں اپنی پیشرفت کے خلاف دہشت گرد تنظیموں کو حملوں کو ناکام بنایا۔ ہم نے ترکی کو خطے کے بحران کا حصہ بنانے کے لیے کی گئی تمام کوششوں کو الٹ دیا۔”

خلیج میں تناؤ

خلیج میں تناؤ پر صدر ایردوان نے کہا کہ "خلیج میں تناؤ نہ صرف ترکی بلکہ دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ بنا ہوا ہے۔ ہم اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے اس طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کو تیار ہیں خطے کے ممالک کے حقوق سے موافق ہو۔”

"ہم مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی اور ترک قبرص کے حقوق کو نظر انداز کرنے کی کوششوں کی کبھی اجازت نہیں دیں گے”

مشرقی بحیرۂ روم میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت پر صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی خطے میں اٹھائے گئے اپنے اقدامات پر مستقل مزاجی سے جما رہے گا یہاں تک کہ یقینی بنائے کہ خطے کے قدرتی وسائل منصفانہ انداز میں تقسیم ہوں۔ "ہم ترکی اور ترک قبرص کے حقوق کو نظر انداز کرے کی کسی بھی کوشش کی اجازت نہیں دیں گے،” صدر ایردوان نے واضح کیا اور کہا کہ ترکی بحری جہاز ڈرلنگ اور تلاش کی سرگرمیاں جاری رکھیں گے جبکہ ترک مسلح افواج مشرقی بحیرۂ روم میں ان کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گی۔

صدر ایردوان نے مزید زور دیا کہ ترکی، یونان اور برطانیہ کو قبرص کے معاملے پر بات کرنے کا حق ہے کیونکہ وہ ضامن قوتیں ہیں لیکن فرانس اس معاملے پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔

تبصرے
Loading...