ہم کرونا وائرس کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، صدر ایردوان

0 647

کروناوائرس کے خلاف جدوجہد پر خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہم اپنے شہریوں کے ساتھ مل کر COVID-19 کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں کہ جس میں انسانیت کو درپیش اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مزید قربانیاں دینا پڑیں گی۔ باہمی اتحاد و یگانگت جتنی زیادہ ہوگی، ہم اتنا ہی کم نقصان اٹھائیں گے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے کروناوائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات پر خطاب کیا۔

"ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں کہ جس میں ہمیں مزید قربانیاں دینا ہوں گی”

اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ COVID-19، جو پوری دنیا کو متاثر کر چکا ہے، زیادہ سے زیادہ پھیل رہا ہے اور مزید جانیں لے رہا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "یہ عظیم سانحہ، جس میں دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد 6 لاکھ تک جا پہنچی ہے اور تقریباً 27 ہزار جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اب تک سب کو متاثر کر چکا ہے۔ آج کے مطابق ہمارے پاس 5698 مریض ہیں اور بدقسمتی سے 92 افراد کی موت واقع ہو چکی ہے۔ ان میں سے 344 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں، 42 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ایک مرتبہ پھر فوت ہونے والوں کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کرتا ہوں اور ان کے عزیز و اقارب سے تعزیت کرتا ہوں۔”

شہریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ترکی کی جانب سے COVID-19 کے حوالے سے اٹھائے گئے فیصلہ کن اقدامات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ” ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں کہ جس میں انسانیت کو درپیش اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مزید قربانیاں دینا پڑیں گی۔ باہمی اتحاد و یگانگت جتنی زیادہ ہوگی، ہم اتنا ہی کم نقصان اٹھائیں گے۔”

"ہمیں خوراک اور ادویات کے حوالے سے مسائل کا سامنا نہیں”

اس امر کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہ ترکی ہر ممکنہ حد تک تیار ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی، جس نے اپنی معیشت اور پیداواری بنیادی ڈھانچےکو مضبوط کیا ہے، اب کئی شعبوں میں خود مختاری کے فوائد سمیٹ رہا ہے۔ ہم نے اضافیبرتریاں بھی حاصل کی ہیں کیونکہ ہم اس وباء کے ابتدائی دنوں سے ہی اس پر نظریں رکھنے کا عمل شروع کر چکے تھے اور اہم قدم اٹھا چکے تھے۔ شکر ہے کہ ہمیں خوراک اور ادویات کے حوالے سے مسائل کا سامنا نہیں۔ دونوں شعبوں میں پیداواری اور سپلائی چَین ہموار انداز میں کام کر رہی ہیں۔ کیونکہ ہم کئی چیزیں خود بناتے ہیں جیسا کہ ٹیسٹنگ کِٹس، دستانے اور ماسک وغیرہ جو اس مرض کے خلاف جنگ میں اہمیت رکھتے ہیں ، اس سلسلے میں بھی ہمیں کسی مسئلے کا سامنا نہیں۔”

"ہم تشخیص و علاج کے حوالے سے اپنے شہریوں اور طبی عملے کی تمام ضروریات پوری کر رہے ہیں”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دنیا میں انتہائی نگہداشت کے سب سے زیادہ بستر رکھتا ہے۔ ہمیں ضرورت پڑنے پر بیرونِ ملک سے مٹیریل بھی مل جاتے ہیں۔ اسی طرح ہم نے بیرونِ ملک سے درآمد کی گئی فوری تشخیص کی کٹس کا استعمال کرکے ٹیسٹ کی تعداد میں فوری اضافہ کیا۔ ہم نے ملک بھر میں ان مراکز کا آغاز کیا کہ جہاں فوری تشخیص کی کٹس اور مقامی طور پر تیار کردہ دونوں استعمال کی جا رہی ہیں۔ یہ ٹیسٹ بالکل مفت ہیں۔ علاج کے لیے ادویات کی پہلی کھیپ پہنچ گئی ہے اور ہم نے اسے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ باقی جلد آ جائیں گی۔ ہم تشخیص و علاج کے حوالے سے اپنے شہریوں اور طبی عملے کی تمام ضروریات پوری کر رہے ہیں۔”

صدر نے اس عالمگیر وباء کے خلاف جنگ کے لیے اضافی اقدامات کے مجموعے کا بھی اعلان کیا۔ اس کے مطابق شہروں کے درمیان سفر گورنر آفس کی اجازت سے مشروط ہوگا؛ نجی شعبہ، ساتھ ہی سرکاری شعبہ بھی، کم سے کم افرادی قوت کے ساتھ اپنے اوقاتِ کار کو نرم کرے گا؛ پبلک ٹرانسپورٹ میں سماجی فاصلہ اختیار کیا جائے گا؛ تفریحی مقامات، جنگلات اور آثارِ قدیمہ کو اختتامِ ہفتہ پر بند رکھا جائے گا اور باقی دنوں میں گروپوں کی صورت میں کسی کو جانے نہیں دیا جائے گا؛ داخلے اور واپسی کے مواقع پر فوجیوں کو 14 دن کے قرنطینہ اصول کی پاسداری کرنا ہوگی؛ کوئی بین الاقوامی پروازیں نہیں ہوگی اور اقدامات کے نفاذ کے لیے صوبائی سطح پر وبائی کونسل بنائی جائیں گی، جہاں ضرورت پڑنے پر صوبوں میں اضافی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

تبصرے
Loading...