ترک پارلیمنٹ میں دہشتگردوں کیلئے کوئی جگہ نہیں، صدر ایردوان

0 699

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (آق پارٹی) ترک پارلیمنٹ میں PKK دہشت گردوں سے تعلق رکھنے والے کسی پارلیمنٹرین کو نہیں چاہتی۔ اس سے قبل اسی طرح کی بات حکمران اتحادی جماعت ملیت حرکت پارٹی کے سربراہ دولت پاہچیلی نے بھی کہی کہ ترک سپریم کورٹ کو PKK سے واضع تعلقات رکھنے والے جماعت HDP پر پابندی عائد کرے۔

PKK کرد نسل سے تعلق رکھنے والا ایک دہشتگرد گروہ ہے جس کئی دہائیوں سے ترکی ریاست کے خلاف دہشتگردی کی کاروائیوں میں ملوث ہے اور ہزاروں ترک شہریوں کو قتل کر چکا ہے۔

صدر ایردوان نے بدھ کے روز پارٹی پارلیمانی گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ترک پارلیمنٹ میں PKK دہشت گرد گروپ کی کسی سیاسی شاخ نہیں دیکھنا چاہتے۔”

انہوں نے دیگر جماعتوں بشمول ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) اور اچھی پارٹی (IP) کی خاموش پر بھی تنقید کی۔

صدرایردوان کے ریمارکس اس موقع پر سامنے آئے ہیں جب HDP دیار بکر کی نائب صدر سیمرا گوزیل نے ایک PKK دہشت گرد وولکان بورا (کوڈ نام: کوچیرو میلیتی) کے ساتھ تصاویر سامنے آئی ہیں اور بقول پارلیمنٹرین کے وہ  ان کے منگیتر تھے۔

وولکان بورا جسے HDP کی پارلیمنٹرین نے اپنا منگیتر قرار دیا ہے۔ وہ صوبہ ادیامان میں دہشت گردی کے دو واقعات کے ماسٹرمائنڈ میں سے ایک تھا۔ وہ اس دہشت گرد اسکواڈ کا بھی حصہ تھا جس نے 24 جون 2016ء کو جینڈرمیری مسلیم اُنال اور سپاہی مجاہد شمشک کو شہید کیا تھا۔  اس کے علاوہ 9 ستمبر 2016 کو دیابکر کے ایک گاؤں کے محافظ یوسف سونمیز کو بھی اسی نے شہید کیا تھا۔

بورا 2017ء میں دیہی ادیامان صوبے میں ترک فوج کے ایک فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔ یہ تصاویر تفتیش کے دوران دریافت ہوئی ہیں۔

گوزیل نے ان تصاویر کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کی دہشت گرد سے منگنی ہوئی تھی اور ان تصاویر کو انہیں نشانہ بنانے کے لیے پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

سی آئی اے نے وائے پی جی کو دہشتگرد پی کے کے کی شامی شاخ تسلیم کر لیا

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: