ہم سال کی دوسری شش ماہی میں زبردست اقتصادی تحریک کی امید رکھتے ہیں، صدر ایردوان

0 288

قارص ڈیم کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہم اپنی پرانی شرحِ نمو کو دوبارہ حاصل کر لیں گے۔ سال کی دوسری شش ماہی میں زبردست اقتصادی تحریک کی توقع ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں کہ جس میں عالمی پیداوار اور سپلائی چَین میں ترکی کی اہمیت زیادہ محسوس کی جائے گی۔”

"ہم نے ایسی سرمایہ کاری کا احساس کیا جو ترکی کو اس کی آبی صلاحیت کے مؤثر ترین استعمال میں مدد دے گی”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم اقتدار میں آئے تو ملک میں کُل 276 ڈیم تھے۔ آج ہم 585 ویں ڈیم کا افتتاح کر رہے ہیں جو پچھلے 18 سال میں تعمیر ہوئے۔ اسی طرح ہم نے اپنی آب پاشی کی تنصیبات میں بھی دو گنا سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔ ہم نے ایسی سرمایہ کاری کا احساس کیا جو ترکی کو اس کی آبی صلاحیت کے مؤٹر ترین استعمال میں مدد دے گی۔”

"‏COVID-19 وباء کے دوران ترکی کی اقتصادی ترقی کے مستحکم نتائج کے مشاہدہ کیا گیا۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "‏COVID-19 وباء کے دوران ترکی کی اقتصادی ترقی کے مستحکم نتائج کے مشاہدہ کیا گیا۔ ہم نے ترقی یافتہ ممالک کو بھی بے یار و مددگار کر دینے والی وباء پر مثالی انداز میں قابو پایا، اپنے ہیلتھ کیئر اور خوراک و حفظانِ صحت کے مطابق مصنوعات کی سپلائی چَین کے ذریعے۔ یہ تصویر ظاہر کرتی ہے کہ ترکی پچھلے 18 سال میں صحت عامہ سے لے کر تعلیم اور انصا، امن و امان سے سماجی مدد، نقل و حمل سے زراعت اور توانائی سے لے کر صنعت تک تمام شعبہ جات میں کس سطح تک جا پہنچا ہے۔”

صدر ایردوان نے اُس عالمی سیاسی و معاشی نظام میں اپنے اصل مقام تک پہنچنے کے لیے مذکورہ بالا بنیادی ڈھانچے کی بنیادی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی کہ جو وباء کے بعد بنے گا۔

صدر نے کہا کہ "ہم ان شاء اللہ اس عمل سے جلد گزر جائیں گے اور اس پرانی شرحِ نمو کو دوبارہ حاصل کر لیں گے۔ ہم سال کی دوسری شش ماہی میں زبردست معاشی نمو کی توقع رکھتے ہیں۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں کہ جس میں عالمی پیداوار اور سپلائی چَین میں ترکی کی اہمیت زیادہ محسوس کی جائے گی۔ ہماری اعلیٰ معیار کی متحرک افرادی قوت، تزویراتی طور پر اہم مقام اور مضبوط بنیادی ڈھانچہ مستقبل میں درپیش مواقع حاصل کرنے کے لیے ہماری سب سے بڑی قوت ہیں۔ ہم ترکی کو دنیا کی سرفہرست 10 معیشتوں میں پہنچانے کے ہدف کے اب کہیں زیادہ قریب پہنچ گئے ہیں۔ ہماری یہ کوششیں اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب ہم اس وباء سے اپنے ملک کو بچائیں۔ ملک کے 83 ملین شہریوں کو ایک جیسی حساسیت، فکر اور ارادے کے ساتھ عمل کرنا ہوگا۔”

تبصرے
Loading...