ہم اپنی معاصر تہذیبوں کے معیار سے آگے بڑھنے کا ہدف رکھتے ہیں، ایردوان

0 341

نئے اتاترک ثقافتی مرکز کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا: "ہم (اس پروجیکٹ پر ہونے والے) تمام اعتراضات رد کرتے ہیں اور ترکی کو عالمی سطح کے ہر شعبے میں بہتر مقام تک لے جانے لیے کام کرتے رہیں گے”۔

ترکی کے بعض حلقوں کی طرف سے نظریاتی بنیادوں پر اتاترک ثقافتی مرکز کے انہدام اور نعیمر نو پر سخت ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔ صدر نے کہا کہ یہ لوگ آرٹ اور ثقافت کی اہمیت سے ناواقف ہیں۔

عالمی اور علاقائی طاقتیں، اصولوں،قوانین اور اخلاقیات سے عاری ہیں

انہوں نے یہ واضع کرتے ہوئے کہ اتاترک ثقافتی مرکز کی تعمیر نو کی مخالفت کرنا ایسے ہی ہے جیسے ترکی کی دہشتگرد تنظیموں کے خلاف جنگ کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایردوان نے کہا: "وہ طاقتیں جو ہمیں استنبول میں نئے ہوائی اڈے کی تعمیر سے روکنے کے لیے کام کر رہی ہیں اور ہمارے دوسرے میگا پروجیکٹس پر تنقید کرتی ہیں وہی طاقتیں شام اور عراق میں ہمارے آپریشن کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ آج کی دنیا میں، عالمی اور علاقائی طاقتیں، اصولوں،قوانین اور اخلاقیات سے عاری ہیں ہر دن لاکھوں زندگیوں کی قیمت پر ایک کے بعد ایک مذموم کھیل کھیلا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہر معاملہ کے ساتھ ایسا ہوتا ہے، ہم نے اتاترک ثقافتی مرکز کی تعمیر نو پر بھی ایک صابرانہ اور طے شدہ موقف پیش کیا ہے جس کی روشنی میں آج یہاں ہم اس منصوبے کے افتتاح کے لیے موجود ہیں”۔

ہم اپنی معاصر تہذیبوں کے معیار سے آگے بڑھنے کا ہدف رکھتے ہیں

ایردوان نے کہا: "ہم اپنی ‘معاصر تہذیبوں کے معیار سے آگے بڑھنے’ پر یقین اور ہدف رکھتے ہیں، جو ہدف ہماری جمہوریہ کے ابتدائی دنوں میں پیش کیا گیا تھا”۔ انہوں نے مزید کہا: "صرف جدت کی باتیں کرتے رہنے کے بجائے ہم ہر شعبے میں جدت پیدا کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے گزشتہ 15 سالوں میں ترکی کو تین گنا ترقی دی ہےجو ہمارے ملک کی تاریخ میں جدت کی سب سے بڑی اور کامیاب ترین کوشش سمجھی جاتی ہے۔ نئے اتاترک ثقافتی مرکز کی تعمیرنو اس مقصد کا عکس ہو گا۔

تمام اعتراضات رد کرتے ہیں اور ترکی کو عالمی سطح کے ہر شعبے میں بہتر مقام تک لے جانے لیے کام کرتے رہیں گے

ترک صدر نے مزید کہا: "اپنے ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے ہم نے سوچا کہ یورپ کے عدالتی نظام، سماجی زندگی اور ثقافتی اشیاء کی سراسر نقالی ہمارے اہداف کے حصول کے لیے ناکافی تھی۔ اس وجہ سے کہ ہم اپنی ظاہری شکل و صورت میں یورپی اور یورپی تہذیب کے ضمن میں یورپی ہونے میں الجھے ہوئے تھے۔ بدقسمتی سے ہم یہ دیکھنے میں ناکام رہے کہ ثقافتی تقلید اصل میں دنیا کے سامنے سر جھکا دینے اور ہاتھ اٹھا دینے کے برابر ہے اس لیے یہ چیز ہماری حریف اور دشمن بنتی ہے۔ اس کے برعکس معاصر تہذیبوں کے مقابلے میں اوپر اٹھنے کا مطلب ہے کہ ہم عالمی سطح پر اپنی بات کہنے کے اہل ہیں۔ ہم تمام اعتراضات رد کرتے ہیں اور ترکی کو عالمی سطح کے ہر شعبے میں بہتر مقام تک لے جانے لیے کام کرتے رہیں گے”۔

تبصرے
Loading...