ہم نے ایسی اقتصادی پالیسی اختیار کی ہے جو سرمایہ کاری اور روزگار پر مبنی ہے، صدر ایردوان

0 455

ماہرینِ معیشت اور دانشوروں کے ساتھ ملاقات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے اپنی اقتصادی پالیسی میں ایک تاریخی تبدیلی کا عمل شروع کیا ہے۔ در حقیقت یہ تبدیلی کے اس عمل کا محض آغاز نہیں بلکہ یہ عرصے سے جاری ہے۔ سب سے پہلے ہم نے افراط زر پر قابو پانے کے لیے زیادہ شرحِ سود کے حامل روایتی معاشی طریقوں کو خاطر میں لانا چھوڑا۔ اس کے بجائے ہم نے ایسی معاشی پالیسی مرتب کی جو کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کے ذریعے سرمایہ کاری، روزگار، پیداوار، برآمد اور نمو پر مبنی ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول کے دولما باخچہ دفتر میں ماہرینِ معیشت اور دانشوروں سے ملاقات کے موقع پر خطاب کیا۔

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی تعلیم، صحت، سکیورٹی اور قانون سے لے کر ٹرانسپورٹیشن، توانائی، صنعت اور سیاحت تک ہر شعبے میں درکار بنیادی ڈھانچہ رکھتا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ ان کا ہدف ترکی کو دنیا کی سر فہرست 10 معیشتوں میں لانا ہے۔

ترکی مشرقِ بعید اور یورپ کے مابین سب سے اہم پیداواری اور لاجسٹکس مرکز ہے”

یہ کہتے ہوئے کہ ترقی یافتہ ممالک ایک طرف باہم مقابل ہیں اور معیشت میں ترقی پذیر ممالک کا حصہ بڑھنے کو روکنا چاہتے ہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ "کرونا وائرس کی وبا نے اس نتیجے کو کہیں زیادہ صاف بیان کر دیا ہے۔ پیسے کی رسد، جس کا آغاز مالی بحران کو حل کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور جو وبا کے ساتھ مسلسل بڑھ رہی ہے، کئی مسائل کو سامنے لائی ہے۔ یہ نتائج ترکی کے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھنے کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ وہ ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو جائے۔ صرف ہم ہی نہیں بلکہ بہت سے حلقے اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ترکی مشرقِ بعید اور یورپ کے درمیان سب سے اہم پیداواری اور لاجسٹکس مرکز ہے۔”

"ترکی نے معاشی پالیسی میں ایک تاریخی تبدیلی کا آغاز کیا ہے”

اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ترکی نے معاشی پالیسی میں ایک تاریخی تبدیلی کا آغاز کیا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ ” در حقیقت یہ تبدیلی کے اس عمل کا محض آغاز نہیں بلکہ یہ عرصے سے جاری ہے۔ سب سے پہلے ہم نے افراط زر پر قابو پانے کے لیے زیادہ شرحِ سود کے حامل روایتی معاشی طریقوں کو خاطر میں لانا چھوڑا۔ اس کے بجائے ہم نے ایسی معاشی پالیسی مرتب کی جو کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کے ذریعے سرمایہ کاری، روزگار، پیداوار، برآمد اور نمو پر مبنی ہے۔ بلاشبہ اتنی بڑی تبدیلی آسانی سے نہیں ہوتی۔ سب سے بڑھ کر یہ انتخاب بہت سے خطرات اور سوالیہ نشانات کے ساتھ آتا ہے۔”

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: