ہم نے اپنے معذور شہریوں کو عوامی خدمات تک بھرپور رسائی دی ہے، صدر ایردوان

0 450

معذور اساتذہ کی تقرری کے لیے اور معذوروں کے لیے 2030ء کے وژن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم ان اولین ممالک میں سے ایک تھے کہ جنہوں نے 2007ء میں معذوروں کے حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کیے۔ 2010ء میں آئینی ترمیم کے ساتھ ہم نے کسی معذوری سے دوچار افراد کے لیے عملی اقدامات کی آئینی ذمہ داری متعارف کروائی۔ ہم نے اپنے معذور بھائیوں اور بہنوں کو ہر قسم کی عوامی خدمات تک رسائی فراہم کی، خاص طور پر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے معذوروں کے بین الاقوامی دن کے موقع پر ان کے حوالے سے 2030ء کے وژن کے اجرا اور معذور اساتذہ کی تقرری کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کیا۔

معذوروں کے عالمی دن کے موقع پر مہمانوں کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "میں ترکی میں اور دنیا بھر میں پھیلے اپنے تمام معذور بہن اور بھائیوں اس دن کی مبارک باد دینا چاہتا ہوں۔ میں خاص طور پر یہاں موجود افراد کے لیے اس دن پر نیک تمنائیں ظاہر کرتا ہوں۔”

"ترکی 2007ء میں عالمی کنونشن پر دستخط کرنے والے ابتدائی ممالک میں سے ایک تھا”

اس دن پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے جسے اقوام متحدہ کی زیر قیادت پوری دنیا میں منایا جاتا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "میں ان معذور بہنوں اور بھائیوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جو آج یہاں ملک بھر کے معذوروں کی نمائندگی کر رہے ہیں اور جن کا عزم اور حوصلہ ہمیں متاثر کرتا ہے۔ کل ایوان صدر میں ہم نے ان کھلاڑیوں کی میزبانی کی تھی جنہوں نے ٹوکیو 2020 پیرالمپکس گیمز میں 15 تمغے جیت کر ہمیں فخر کا موقع دیا۔ بحیثیت قوم ہم تمام تر مسائل کے باوجود پیرالمپک کھلاڑیوں کی ایسی کامیابیوں پر ان کے لیے خاص احساسات رکھتے ہیں۔ بلاشبہ ہم کھیل کے تمام شعبوں میں کامیابیوں کو اہمیت دیتے ہیں، اس لیے معذور کھلاڑیوں کی یہ کامیابیاں ہمارے لیے اہمیت رکھتی ہیں۔ اس لیے میں ایک مرتبہ پھر انہیں مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں اور مستقبل میں مزید کامیابیوں کے لیے دعا گو ہوں۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی دنیا کا سب سے جامع سوشل سکیورٹی نظام رکھتا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ معذور افراد کو درپیش مسائل 2005ء میں بنائے گئے قانون کے ذریعے حل کیے گئے۔ "ہم ان اولین ممالک میں سے ایک تھے کہ جنہوں نے 2007ء میں معذوروں کے حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کیے۔ 2010ء میں آئینی ترمیم کے ساتھ ہم نے کسی معذوری سے دوچار افراد کے لیے عملی اقدامات کی آئینی ذمہ داری متعارف کروائی۔ ہم نے اپنے معذور بھائیوں اور بہنوں کو ہر قسم کی عوامی خدمات تک رسائی فراہم کی، خاص طور پر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں۔”

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: