کروناوائرس کے خاتمے کے لیے ہمیں اپنے تمام وسائل بروئے کار لانے ہوں گے، صدر ایردوان

0 557

کروناوائرس کے حوالے سے ایک کوآرڈی نیشن اجلاس کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "ریاست کی حیثیت سے ہمیں ملک کو درپیش وائرس خطرے کے جلد از جلد خاتمے کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لانے ہوں گے۔ اس دوران ہمارے ہر فرد کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ میں اپنی قوم کے ایک ایک فرد سے کہتا ہے کہ جب تک COVID-19 کا خطرہ ٹل نہ جائے، جتنا ممکن ہو گھروں پر رہیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے صدارتی محل میں کروناوائرس (COVID-19) کے حوالے سے ایک کوآرڈی نیشن اجلاس کے بعد قوم سے خطاب کیا۔

"ترکی اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن حد تک تیار ہے”

یہ کہتے ہوئے کہ ترکی ممکنہ حد تک اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "ہماری متوازن پالیسیوں نے ایک طرف نجی شعبے کی پیداواری صلاحیت کو سہارا دیا اور یقینی بنایا کہ دوسری طرف تعلیم، صحتِ عامہ اور سماجی تحفظ کے شعبے مستقل چلتے رہیں۔ ترکی پہلے ہی اس سمت میں پیش رفت کر چکا ہے کہ جہاں دنیا اب جا رہی ہے، ہم ان شاءاللہ 21 ویں صدی کو ترکی کی صدی بنائیں گے۔”

"ترکی شروع سے ہی اس مرض کی پیش رفت پر نگاہیں رکھے ہوئے ہے”

صدر ایردوان نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ترکی شروع سے ہی اس مرض کی پیش رفت پر نگاہیں رکھے ہوئے ہے اور اس کے مقابلے پر فوری اقدامات اٹھائے اور ان کا عملی نفاذ بھی کیا۔ ہم نے 6 جنوری کو وزارتِ صحت کے تحت اور 10 جنوری کو سائنس کونسل کے ایک آپریشن سینٹر قائم کیا تاکہ اس مرض کی پیش رفت پر کڑی نگاہ رکھی جا سکے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اللہ کی مدد اور قوم کی تائید سے ہم اس مشکل دور سے کمزور ہونے کے بجائے کندن بن کر نکلیں گے۔”

"ترکی کی سب سے بڑی طاقت اس کا اتحاد ہے”

صدر ایردوان نے کہا کہ "چند حلقوں نے افراتفری پھیلانے اور غلط خبروں کے ذریعے ہمارے عوام کے حوصلے توڑنے کی کوشش کی اور شکوے شکایات کیں کہ آخر ملک میں اتنے مریض سامنے کیوں نہیں آ رہے۔ لیکن ہم عوام کی مدد سے اس چیلنج سے بخوبی نمٹے جیسا کہ ملک کے خلاف ہر حملے میں عوام کی مدد شامل حال ہوتی ہے۔ ہم نے ان بدخواہ لوگوں کو مایوس کیا، جو ملک کو وائرس کے ہاتھوں یرغمال دیکھ کر جوش میں آ رہے تھے۔ ترکی کی سب سے بڑی طاقت اس کا اتحاد اور بھائی چارا ہے۔”

"جب تک عالمگیر وباء کا خطرہ ٹل نہیں جائے گا اقدامات اٹھاتے رہیں گے”

صدر ایردوان نے کہا کہ COVID-19 سے بچاؤ کا بہترین طریقہ خود اقدامات اٹھانا ہے۔ اپنی اور دوسرے لوگوں کی صحت کو محفوظ رکھنے کے لیے وہ تمام اقدامات اٹھائے جائیں جن کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ کسی کو بھی اپنی خود غرضی یا غفلت کی وجہ سے پورے معاشرے کی صحت داؤ پر لگانے کا حق حاصل نہیں۔ انفرادی حیثیت میں ہم میں سے ہر فرد کو پورے معاشرے کی صحت اور سکون کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ دنیا کے تمام ممالک کی طرح ترکی میں بھی اٹھائے گئے اقدامات عارضی ہیں یہاں تک کہ اس عالمگیر وباء کا خطرہ ٹل نہ جائے۔”

"میں قوم کے ہر فرد سے مطالبہ کرتا ہوں کہ COVID-19 کا خطرہ ٹلنے تک گھروں میں رہیں”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "ریاست کی حیثیت سے ہم نے وائرس سے ملک کو درپیش خطرات کے خاتمے کے لیے جلد از جلد تمام ذرائع استعمال کیے ہیں۔ اس پورے عمل میں سب سے بڑی ذمہ داری قوم کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے۔ میں ہر فرد سے مطالبہ کرتا ہوں کہ COVID-19 کا خطرہ ٹلنے تک گھروں میں رہیں۔ کوئی بھی رابطہ جو ہمارے اختیار میں نہ ہو وائرس کے آگے پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ ہم ایک دوسرے سے میل جول جتنا کم کریں گے اور اپنی نقل و حرکت کو جتنا محدود کریں گے، وائرس کا پھیلاؤ اتنا ہی سست پڑے گا، یوں اس سے لاحق خطرہ بھی کم ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہر وہ کام گھر سے کیا جائے جو کیا جا سکتا ہےاور بیرونی دنیا سے اپنے تعلق کو کم سے کم کیا جائے۔”

"ہم اپنے بچوں سے کہتے ہیں کہ وہ بدستور گھر کے اندر رہیں اور اپنی تعلیم گھر میں ہی جاری رکھیں”

تمام شہریوں سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہ اپنے عام صحت کے مسائل کے حوالے سے خاندانی ڈاکٹر سے رابطہ کریں، صدر ایردوان نے کہا کہ "یہ ذہن میں رکھیں کہ وباء کے ایام میں ہسپتال وائرس سے متاثر ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ رکھنے والے مقامات ہیں۔ اس لیے وہ شہری جو بخار، کھانسی یا سانس لینے میں دشواری جیسی علامات کے شکار ہیں، گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں اور فوری طور پر وزارت صحت کی ہاٹ لائن ALO 184 پر کال کریں۔” اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ تمام شہری خطرہ ختم ہونے تک اشد ضرورت کے بغیر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور بیرونی دنیا سے تعلق سے گریز کریں، صدر نے کہا کہ ” اپنے بچوں کو گھروں کے اندر رکھیں، ان کی تعلیم گھر ہی میں جاری رکھیں اور کتابیں پڑھیں۔ بزرگوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ گھر پر ہی رہیں کیونکہ وہ سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں۔”

تبصرے
Loading...