دفاعی صنعت میں دوسرے ملکوں پر انحصار 70 فیصد سے گھٹ کر 30 فیصد ہو چکا ہے، صدر ایردوان

0 171

روکتسان (ROKETSAN) کی نئی تنصیبات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم دفاعی صنعت میں دوسرے ملکوں پر انحصار کو 70 فیصد سے گھٹا کر 30 فیصد تک لے آئے ہیں۔ ہم نے ایسی کوئی بھی پروڈکٹ نہ خریدنے کی پالیسی اپنائی جو ہم مقامی سطح پر بنا سکتے ہیں اور اور مقامی سطح پر پیداوار کی شرح میں مسلسل اضافہ کیا۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے روکتسان سیٹیلائٹ لانچنگ، اسپیس سسٹم اینڈ ایڈوانسڈ ریسرچ سینٹر اینڈ ایکسپلوزِو را مٹیریل پروڈکشن پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "پچھلے 18 سال میں ہم نے اپنی کمزوریوں و خامیوں پر قابو پاتے ہوئے دفاعی صنعت میں عروج حاصل کیا ہے۔ ہم نے اپنی مفلوج دفاعی صنعت کو بحال کیا ہے۔ اپنے آبا و اجداد کے عظیم ورثے سے تحریک پاتے ہوئے ہم دفاعی صنعت میں اپنے غیر ملکی انحصار کو 70 فیصد سے گھٹا کر 30 فیصد تک لے آئے ہیں۔”

"پچھلے 5 سالوں میں ہم نے تقریباً 350 دفاعی منصوبے شروع کیے ہیں”

ترکی کی مقامی پیداوار پر تاکید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر ایرودان نے کہا کہ ” ہم نے ایسی کوئی بھی پروڈکٹ نہ خریدنے کی پالیسی اپنائی جو ہم مقامی سطح پر بنا سکتے ہیں اور اور مقامی سطح پر پیداوار کی شرح میں مسلسل اضافہ کیا۔ 2002ء میں ترکی میں 62 جاری دفاعی منصوبے تھے۔ آج یہ تعداد تقریباً 700 ہے۔ پچھلے پانچ سالوں میں ہم نے تقریباً 350 منصوبوں کی شروعات کی۔ 2002ء میں دفاعی منصوبوں کا کُل بجٹ 5.5 ارب ڈالرز تھا۔ آج ہم 60 ارب ڈالرز کے حجم تک پہنچ گئے ہیں۔ اس عرصے میں دفاعی صنعتوں کی تعداد 56 سے بڑھ کر 1500 تک جا پہنچی ہے۔ 2002ء میں دفاعی صنعت کاکُل حجم 1 ارب ڈالرز تھا۔ 2019ء میں یہ 11 ارب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "100 عالمی دفاعی کمپنیوں کی فہرست میں ہماری 7 کمپنیاں شامل ہیں۔ برّی اور بحری فوج کی گاڑیوں کی اپنی ضروریات کے ساتھ ساتھ ہم ان 10 ملکوں میں شامل ہیں جو اپنے جنگی جہاز خود بناتے اور ان کی مرمت کرتے ہیں۔”

عالمی مارکیٹ میں ترک دفاعی صنعت کے بڑھتے ہوئے حصے اور طاقت پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم UAVs اور UCAVs کی پیداوار میں دنیا کے سرفہرست ‏3-4 ملکوں میں سے ایک ہیں۔”

"ہم رواں سال کے اختتام تک ATMACA کو ترک افواج کے حوالے کر دیں گے”

ترکی کے پہلے مقامی طور پر تیار کردہ بحری میزائل ATMACA کے حوالے سے صدر ایرودان نے کہا کہ "200 کلومیٹرز کی رینج کے ساتھ ATMACA سطحِ سمندر سے محض چند میٹرز کی بلندی پر اڑتا ہے۔ دشمن کے ریڈار اس کا پتہ نہیں لگا سکتے۔ ایک مخصوص ہدف پر داغے جانے کے بعد ATMACA اپنے ہدف کے حرکت کی صورت میں بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان خصوصیات کے ساتھ ATMACA نے ہمیں ان پانچ ملکوں میں سے ایک بنا دیا ہے جو اینٹی شپ میزائل بنا سکتے ہیں۔ ہم رواں سال کے اختتام تک ATMACA کو ترک افواج کے حوالے کر دیں گے، جو بلاشبہ ان کی آنکھوں کا تارا ہوگا۔”

مائیکروسیٹیلائٹ لانچ سسٹم 2025ء تک مکمل کرنے کا ہدف ہے، اس حوالے سے صدر ایرودان نے کہا کہ "اس منصوبے کا ہدف ترکی کو 100 کلو گرام یا اس سے کم وزن کے مائیکرو سیٹیلائٹس زمین کے زیریں مدار میں کم از کم 400 کلومیٹرزکی بلندی تک بھیجنے کے قابل بنانا ہے۔ ترکی کے پاس سیٹیلائٹس لانچ کرنے، ٹیسٹ کرنے اور انہیں بنانے کا انفرا اسٹرکچر ہوگا اور وہ بیس بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کرے گا۔” مقامی ٹیکنالوجیز کے ذریعے لانچ کیے گئے ترکی کے پہلے sounding راکٹ کی جانب سے کارمان لائن عبور کرنے اور 130 کلومیٹرز کی بلندی تک پہنچنے کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی نے اپنے مقامی سطح پر تیار کردہ منصوبوں کے ساتھ خلاء میں پہلا قدم رکھ دیا ہے۔ ہم اب اپنی مقامی و قومی ٹیکنالوجیز کے ساتھ خلائی میدان میں بھی موجود ہیں۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "میں یہ اچھی خبر بھی بتانا چاہوں گا کہ اپنے مقامی سطح پر بنائی گئی liquid-propellant راکٹ انجن ٹیکنالوجی کے ابتدائی خلائی تجربات شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔”

تبصرے
Loading...